ٹرمپ کے الٹی میٹم پر ایران نے خلیجی ممالک کیلئے خطرناک دھمکی دیدی
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں توانائی اور اہم تنصیبات پر حملے کر سکتا ہے، جس سے خطے کا بنیادی ڈھانچہ “ناقابلِ تلافی نقصان” کا شکار ہو سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو پورے خطے میں تیل اور گیس سے متعلق اہم تنصیبات ایران کے لیے “جائز اہداف” بن جائیں گی۔
انہوں نے لکھا کہ ایرانی تنصیبات پر حملے کی صورت میں “خطے بھر کا توانائی اور تیل کا بنیادی ڈھانچہ ناقابلِ واپسی طور پر تباہ کیا جا سکتا ہے”، اور ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں طویل عرصے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے خطے میں توانائی کی تنصیبات کا ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا جس پر تحریر تھا “بجلی کو خدا حافظ کہہ دو”۔
ایرانی قیادت کا یہ سخت ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا تو امریکا ایران کے پاور پلانٹس کو “تباہ و برباد” کر دے گا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز تکنیکی طور پر بند نہیں، تاہم وہ ان ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دے رہا جنہیں تہران اپنی سرزمین پر حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس گزرگاہ میں رکاوٹ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے اور ماہرین اسے 1970 کی دہائی کے بعد کا بدترین تیل بحران قرار دے رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز “تمام ممالک کے لیے کھلی ہے، سوائے ان کے جو ایران کی سرزمین کی خلاف ورزی کرتے ہیں”۔
آبنائے ہرمز مکمل بند کرنے کی دھمکی
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے بھی ایک بیان میں کہا کہ اگر امریکا ایرانی توانائی تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایسے ممالک میں واقع توانائی تنصیبات کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
حالیہ بیانات سے واضح ہو رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، جو اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ایران پہلے ہی اسرائیل اور خطے کے بعض دیگر ممالک میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ عالمی فضائی اور مالیاتی منڈیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے عالمی رہنماؤں سے ایران کے خلاف جاری کارروائی میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے، جبکہ ترکی سمیت متعدد ممالک سفارتی سطح پر جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔