جنگ کے باوجود دبئی ایئرپورٹ کیسے پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے
جنگی طیارے حملہ آور ڈرونز سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، ایئر ٹریفک کنٹرولرز زیادہ مستعد، ایمریٹس کی 60 فیصد پروازیں بحال
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور حملوں کے باوجود دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے کمرشل پروازوں کا سلسلہ کافی حد تک بحال کرلیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق تنازع کے ابتدائی دنوں میں ایران کے حملوں کے دوران دبئی ایئرپورٹ پر کھڑے ایمریٹس کے ایک ایئربس A380 اور سعودی عربین ایئرلائنز کے ایک ایئربس A321 کو نقصان پہنچا۔ دونوں طیارے پارکنگ ایریا میں موجود تھے جب دھماکوں کی زد میں آئے۔
یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے کے مصروف ترین فضائی مراکز بھی ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے سے محفوظ نہیں، تاہم اس کے باوجود متحدہ عرب امارات نے فضائی آپریشنز کو بند ہونے سے بچائے رکھا۔
تاہم اماراتی حکام اور ایئرلائنز نے تیزی سے فلائٹ شیڈول بحال کرنے کے اقدامات کیے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایمریٹس ایئرلائن نے روزانہ تقریباً 300 پروازیں چلائیں، جو جنگ سے پہلے کی صلاحیت کا لگ بھگ 60 فیصد بنتی ہیں۔
اسی طرح اتحاد ایئرویز، فلائی دبئی اور ایئر عربیہ نے مجموعی طور پر تنازع شروع ہونے کے بعد سے 11 ہزار سے زائد پروازیں آپریٹ کیں۔
ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں پروازوں کا جاری رہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ یو اے ای نے بحران کے دوران بھی اپنے ہوا بازی کے نظام کو فعال رکھنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی۔
جنگ میں مسافر طیارے کیسے اڑ رہے ہیں
خطرات سے نمٹنے کے لیے متحدہ عرب امارات نے خصوصی فضائی راہداریوں کا تعین کیا، ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو ہنگامی ڈائیورژن کے لیے تیار رکھا، جبکہ ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے لڑاکا طیاروں کو فضائی نگرانی پر تعینات کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر ایرانی ڈرون کے دبئی ایئرپورٹ کے اوپر ایک فیول ٹینک سے ٹکرانے سے چند لمحے پہلے بیجنگ جانے والی ایمریٹس کی ایک پرواز روانہ ہوئی تھی۔ دھماکے کے باعث قریب پہنچنے والی دیگر پروازوں کو فوری طور پر متبادل راستوں پر موڑ دیا گیا، تاہم اسی دن دوپہر تک ایئرپورٹ کی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ گئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاری تنازع نے خلیجی ممالک کے ہوا بازی کے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان پیدا کیا ہے، جہاں ایک طرف عالمی ٹرانزٹ ٹریفک برقرار رکھنا ضروری ہے تو دوسری جانب ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرات سے نمٹنا بھی ناگزیر ہے۔ دبئی ایئرپورٹ کی مسلسل فعالیت اس بات کی مثال بن گئی ہے کہ جدید سیکیورٹی، مربوط فضائی نگرانی اور فوری فیصلہ سازی کے ذریعے بڑے ایئر حب بحران کے دوران بھی چلائے جا سکتے ہیں۔