بریکنگ ٹرمپ نے ایرانی بجلی گھروں اور توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
تہران سے دو روز تک مذاکرات میں پیشرفت ہوئی، امریکی صدر کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والی بات چیت مثبت رہی ہے، جس کے باعث ایران کے بجلی گھروں اور توانائی تنصیبات پر ممکنہ فوجی کارروائی 5 دن کیلئے روک دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران دونوں ممالک کے درمیان “بہت اچھی اور نتیجہ خیز گفتگو” ہوئی، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔
ان کے مطابق ان تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کے تناظر میں انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مجوزہ تمام فوجی حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے جائیں، جبکہ اس دوران مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ جاری بات چیت کی کامیابی سے مشروط ہے اور اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے تو مزید پیش رفت متوقع ہے۔

اس سے پہلے ٹرمپ نے ایران کو ابنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا جو پاکستانی وقت کے مطابق پیر کی صبح سات بجے ختم ہو گیا۔ ٹرمپ نے ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ ایران نے ٹرمپ کے الٹیمیٹم پر ڈرنے کے بجائے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو خلیجی ممالک میں بجلی گھروں پر حملے کیے جائیں گے۔