بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم نے پاکستان کیخلاف بیان داغ دیا

ماضی میں بھی بنگلہ دیش کی سیاسی قیادت کی جانب سے 1971 کے واقعات پر مختلف بیانات سامنے آتے رہے ہیں

               
March 25, 2026 · بام دنیا

بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے 25 مارچ 1971 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی فوج پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں طارق رحمان نے 25 مارچ 1971 کو ’نسل کشی‘ کا دن قرار دیا اور اسے بنگلہ دیش کی تاریخ کے سب سے سفاک واقعات میں سے ایک بتایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس رات ’آپریشن سرچ لائٹ‘ کے دوران نہتے شہریوں، اساتذہ اور دانشوروں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان کے مطابق ڈھاکہ یونیورسٹی، پلخانہ اور راجرباغ پولیس لائنز سمیت مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اسی رات مسلح مزاحمت کا آغاز ہوا، جو بعد ازاں نو ماہ طویل جنگ میں تبدیل ہو گیا۔

طارق رحمان کی اس پوسٹ کو اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ماضی میں پاکستان کے حوالے سے نسبتاً نرم مؤقف رکھتی رہی ہے۔

اس بیان پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مثبت جذبات موجود ہیں اور تعلقات کو آگے بڑھنا چاہیے۔

تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے اس بیان کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات پر نظر رکھنا ضروری ہے، جبکہ بھارتی صحافی سہاسنی حیدر نے اسے ایک یاد دہانی قرار دیا۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی بنگلہ دیش کی سیاسی قیادت کی جانب سے 1971 کے واقعات پر مختلف بیانات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اس معاملے پر مؤقف میں فرق برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں، جس کے باعث اس بیان نے سفارتی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔