’ہم دلال نہیں بن سکتے‘، پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر بھارتی وزیر خارجہ تلملا اٹھے
بھارت کی "وشو گرو" بننے کی دعویداری صرف بیانات تک محدود رہ گئی ہے، اپوزیشن کی مودی سرکار پر کڑی تنقید
فائل فوٹو
نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ کلیدی کردار نے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دیں۔
مغربی ایشیا کے بحران پر بلائے گئے کُل جماعتی اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سیاست میں کسی کے لیے “دلال” کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈروں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اپوزیشن ارکان نے سوال اٹھایا کہ جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی (Mediation) کے لیے متحرک ہے، جبکہ بھارت تنہائی کا شکار نظر آ رہا ہے۔
اپوزیشن کے ان چبھتے ہوئے سوالات پر ڈاکٹر جے شنکر اپنا غصہ قابو میں نہ رکھ سکے اور پاکستان کا نام لیے بغیر تلملا اٹھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کسی دوسرے ملک کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا “ایجنٹ” یا “دلال ملک” نہیں بنے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اپوزیشن نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت (Strategic Importance) عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہے۔
ایران اور امریکہ جیسے بڑے ممالک پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، بھارت کی “وشو گرو” بننے کی دعویداری صرف بیانات تک محدود رہ گئی ہے۔