مولانا فضل الرحمن کا موجودہ سنگین صورتحال پر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا نے کا مطالبہ

حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے ، ملک بدامنی کا شکار ہے، میڈیا سے گفتگو

               
March 26, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

ڈیرہ اسماعیل خان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ملک کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور ٹانک شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حالات انتہائی کشیدہ ہیں، جو ملکی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

مولانا نے مطالبہ کیا کہ موجودہ سنگین صورتحال پر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس فوری طور پر بلایا جائے۔ مسائل کا حل صرف قومی مشاورت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔  بین الاقوامی اور قومی سطح پر پاکستان کی پالیسی کو واضح کیا جانا چاہیے کیونکہ فی الوقت ملک کی کوئی ٹھوس خارجہ پالیسی نظر نہیں آرہی۔

اسلامی دنیا کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ “عراق اور لیبیا کے بعد اب ایران کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ ہر طرف جنگ کا سماں ہے، ہمیں اب ایک مضبوط اسلامک بلاک کی طرف بڑھنا ہوگا۔”

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کی باہمی تقسیم پوری دنیا پر عیاں ہو چکی ہے، جس کا دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ثالثی کے حوالے سے جاری بحث پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ معاشی اور سیاسی حالات میں پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالث کا کردار ادا کر سکے؟ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ موجودہ عالمی تناظر میں پاکستان کے پاس ثالثی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی موجود نہیں ہے۔