طورخم بارڈر محدود طور پر کھل گیا، 292 افغان شہری وطن روانہ
پہلے روز طورخم بارڈر سے 50 افراد نے سرحد عبور کی, اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل
فائل فوٹو
خیبر : طورخم بارڈر محدود طور پر کھل گیا، 292 افغان شہریوں کو افغانستان دی پورٹ کر دیا گیا۔
پاک افغان کشیدگی کے بعد طورخم بارڈر کو محدود پیمانے پر کھول دیا گیا ہے، جہاں ابتدائی طور پر صرف غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
لنڈی کوتل میں حمزہ بابا مزار کے قریب قائم ہولڈنگ کیمپ سے افغان شہریوں پر مشتمل پہلا قافلہ طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان روانہ کر دیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل انعام اللہ وزیر اور سیکیورٹی حکام موجود تھے، جنہوں نے مہاجرین کو باعزت طریقے سے رخصت کیا۔
حکام کے مطابق بارڈر تقریباً ایک ماہ سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند تھا، جبکہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے تجارت اور عام آمدورفت بھی معطل ہے۔ موجودہ صورتحال میں بارڈر صرف افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے کھولا گیا ہے، جبکہ تجارتی سرگرمیاں اور شہریوں کی نقل و حرکت بدستور بند رہے گی۔
ملک کے مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 292 افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں مرد: 225خواتین: 33بچے: 34
POR کارڈ ہولڈرز، ACC کارڈ ہولڈرز: 1
راولپنڈی: 38 افراد (27 مرد، 3 خواتین، 8 بچے، 1 POR، 1 ACC)، اسلام آباد: 104 افراد (48 مرد، 30 خواتین، 26 بچے)
پشاور سنٹر جیل: 150 افراد (تمام مرد، 3 POR)۔
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملک بھر میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران متعدد افغان باشندوں کو گرفتار کر کے فارن ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت طورخم بارڈر کے ذریعے واپس بھیجا جا رہا ہے۔
ادھر جمرود اور گردونواح میں سینکڑوں افغان خاندان بارڈر کھلنے کے منتظر ہیں۔ ان میں بچے، بزرگ اور خواتین شامل ہیں، جو اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق طورخم اور حمزہ بابا مزار کے قریب ہولڈنگ کیمپ میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور عملہ تعینات ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مزید احکامات جاری ہوں گے، پھنسے ہوئے افغان مہاجرین کو بھی مرحلہ وار واپسی کی اجازت دے دی جائے گی۔