آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے متحدہ عرب امارات نے عالمی فورس کی کوششیں شروع کردیں
ہرمز سیکورٹی فورس کیلئے امارات نے دیگر ممالک کو قائل کرنا شروع کردیا، اقوام متحدہ قرارداد لائی جائے گی
متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی فورس بنوانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ ٹرمپ پہلے ہی ابی گزرگاہ کھلوانے کیلئے طاقت کے استعمالںکی بات کر چکے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق امارات نے اپنے اتحادیوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ مجوزہ کثیر القومی بحری ٹاسک فورس میں شامل ہونے کو تیار ہے، جبکہ ابوظہبی اس مقصد کے لیے وسیع تر بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی کوششیں بھی تیز کر رہا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امارات نے امریکا اور دیگر مغربی ممالک کو بتایا ہے کہ وہ اس مجوزہ فورس میں عملی طور پر حصہ لے گا اور ممکنہ طور پر اپنی بحریہ بھی تعینات کرے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ایران کی جانب سے ردعمل کا سب سے زیادہ اثر خلیجی ریاستوں، خصوصاً امارات، پر پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مجوزہ اتحاد کا مقصد ایران کے خلاف براہ راست جنگ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانا اور تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنانا ہے۔
اقوام متحدہ کی قرارداد کی بھی تیاری
اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات بحرین کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد لانے پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ کسی بھی مستقبل کی بحری فورس کو بین الاقوامی قانونی جواز فراہم کیا جا سکے، تاہم روس اور چین کی ممکنہ مخالفت اس عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی تقریباً ایک پانچویں مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ کشیدگی اور حملوں کے باعث اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھا بلکہ خلیجی ممالک کی سپلائی چینز بھی دباؤ کا شکار ہیں۔
امریکی حکام اور بعض خلیجی ریاستوں کے درمیان یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے بحری جہازوں کو مسلح بحری حفاظت فراہم کیے بغیر کوئی آسان حل موجود نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بھی عندیہ دیا ہے کہ امریکا اس بات پر کام کر رہا ہے کہ جہاز جلد از جلد محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزر سکیں۔
امارات کی سفارتی مہم تیز
رپورٹ کے مطابق امارات “ہرمز سیکیورٹی فورس” کے قیام کے لیے درجنوں ممالک کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایرانی حملوں کے خطرے کے باوجود بحری تجارت جاری رکھی جا سکے۔ بحرین اس منصوبے کی کھل کر حمایت کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اماراتی وزیر صنعت و ٹیکنالوجی سلطان الجابر نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو “یرغمال” بنا رکھا ہے اور اس کی قیمت دنیا بھر کے صارفین کو ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
یہ پیش رفت اس وسیع تر جغرافیائی سیاسی کشمکش کا حصہ ہے جس نے نہ صرف خلیجی سلامتی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔