افغانستان میں طالبان وردی میں ملبوس ڈاکوؤں کی لوٹ مار، 2 سنار بھائی مار دیئے
صوبہ فریاب میں دکان پر دھاوا بولا، طلائی زیورات لوٹ کر لے گئے
سی سی ٹی وی فوٹیج سے لی گئی تصویر، طالبان وردیوں میں ملبوس ڈاکو لوٹ مار کر رہے ہیں
افغانستان کے صوبہ فاریاب کے ضلع اندخوئے میں سونے کی دکان پر افغان طالبان کی وردیاں پہنے افراد نے دھاوا بول کر لوٹ مار کی جب کہ مزاحمت پر دو سنار بھائیوں کو قتل کردیا۔ سوشل میڈیا پر اس کا الزام طالبان پر عائد کیا جا رہا ہے تاہم افغان طالبان اسے نامعلوم ڈاکوؤن کا کام کہہ رہے ہیں۔
فاریاب کے ضلع اندخوئے میں 23 مارچ 2026 کو دوپہر تقریباً 2:15 بجے ایک سنسنی خیز مسلح ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا۔
سیکیورٹی کیمروں نے اس پورے واقعے کو ریکارڈ کر لیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔
حملہ آور طالبان کی فوجی وردی (کیموفلاج یونیفارم، ٹیکٹیکل ویسٹ، ہیلمٹ اور خودکار ہتھیاروں) میں ملبوس تھے۔ انہوں نے دکان میں گھس کر لوٹ مار کی، دکان کے مالکان پر فائرنگ کی اور دو سنار بھائیوں کو قتل کر دیا۔
تقریباً 44 سیکنڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ دکان میں عام گاہک موجود تھے — خواتین برقعہ اور چادر میں، ایک شخص کاؤنٹر کے پیچھے، جبکہ دوسرے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک چار مسلح افراد نے دکان پر دھاوا بول دیا۔ انہوں نے فوراً کاؤنٹرز پر چھلانگ لگائی، شیشے توڑے، طلائی زیورات کی ڈسپلے کیسز لوٹیں، گاہکوں پر بندوقیں تان کر دھمکیاں دیں۔
اس دوران ایک شخص ایک وردی پوش کو پکڑتا ہے جسے وردی پوش اور اس کے ساتھی گولیاں مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔
لوٹ مار مکمل کرنے کے بعد وہ تیزی سے بھاگ نکلے۔
اس واقعے کی رپورٹنگ افغانستان کے ذائع ابلاغ نے کی۔
طالبان پولیس کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ متاثرین دو بھائی تھے: خال محمد اور محمد نبی (جو اندخوئے سناروں کی یونین کے سربراہ بھی تھے)۔ دونوں نے مزاحمت کی تو انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ایک تیسرا شخص بھی زخمی ہوا۔
حملہ آور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے۔
طالبان انتظامیہ نے اسے “نامعلوم مسلح ڈاکوؤں” کا کام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ واقعہ کی تفتیش جاری ہے اور مجرموں کو پکڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کے اپنے ارکان نہیں تھے۔
The Taliban militants robbed a jewelry shop and also killed the shop owner’s brother In Andkhoy district of #Faryab province, #Afghanistan.
Fortunately, security cameras recorded the incident.
What a big embarrassment for the so-called “Mujahid” regime of the Taliban! pic.twitter.com/Wc0hwx3OWH— Ahmad Sharifzad (@AhmadSharifzad) March 27, 2026
تاہم مقامی ذرائع، افغان میڈیا (کابل نو، 8am.media، صداے دریا ٹی وی اور عامج نیوز) اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ویڈیو میں حملہ آوروں کو طالبان کی سرکاری فوجی وردی میں دکھایا گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ “چور خود طالبان یا طالبان سے وابستہ ہے” اور ایسے واقعات میں لوگ خوفزدہ رہتے ہیں کہ چوروں کی نشاندہی کریں تو خود خطرے میں پڑ جائیں۔
سیکیورٹی کیمرہ فوٹیج دکان کے اندر سے لی گئی ہے۔ واقعہ کے دن ہی 23 مارچ کو مقامی ذرائع نے اسے افغان میڈیا تک پہنچایا۔ سب سے پہلے @aamajnews_EN
اور دیگر اکاؤنٹس نے اسے شیئر کیا۔ 27 مارچ کو @AhmadSharifzad
نے بھی یہ ویڈیو شیئر کی جس میں لکھا: “طالبان ملینٹس نے سونے کی دکان لوٹی اور دکان دار کے بھائی کو بھی قتل کر دیا۔ سیکیورٹی کیمروں نے واقعہ ریکارڈ کر لیا۔ یہ ‘مجاہد’ طالبان رجیم کے لیے بڑا شرمندگی کا باعث ہے!” یہ ویڈیو اب تک ہزاروں بار شیئر ہو چکی ہے اور لوگوں میں شدید ردعمل پیدا کر رہی ہے۔
کچھ لوگ اسے طالبان حکومت کی ناکامی قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے “جعلی” یا “اپوزیشن” کا الزام لگا رہے ہیں، لیکن تمام معتبر افغان ذرائع اسے حقیقی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔