ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور عسکری کارروائیوں میں شدت لانےکا اعلان

موجودہ تنازع بتدریج اختتامی مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے اور کشیدگی میں کمی کے ساتھ اہم بحری راستوں کی بحالی بھی ممکن ہو جائے گی۔

               
April 2, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ آنے والے ہفتے صورتحال کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

قوم سے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ عرصے کے دوران امریکی افواج نے ایران کے اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے دفاعی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق کارروائی اپنے اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے لاحق خطرات میں کمی آئی ہے، تاہم مکمل مقاصد کے حصول تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ توانائی سے متعلق تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں۔

خطاب کے دوران امریکی صدر نے ایران پر مختلف الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ ماضی میں عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبایا جاتا رہا، تاہم ان دعوؤں کے ساتھ کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں اتحادی ممالک کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں استحکام امریکا کی ترجیحات میں شامل ہے۔

تیل کی عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب توانائی کے شعبے میں زیادہ خود مختار ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم حالات جلد معمول پر آنے کی توقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ تنازع بتدریج اختتامی مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے اور کشیدگی میں کمی کے ساتھ اہم بحری راستوں کی بحالی بھی ممکن ہو جائے گی۔