حمزہ شہباز کےپارٹی معاملات میں اچانک متحرک ہونے پر قیاس آرائیاں

پنجاب میں تنظیمی عہدے داروں اور کارکنوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ تیز

               
April 2, 2026 · امت خاص

تصویر : سوشل میڈیا

 

سابق وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز اچانک پارٹی معاملات میں دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ،وہ نہ صرف پنجاب میں پارٹی کے ضلعی صدور سے ملاقاتیں کر رہے ہیں بلکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں یونین کونسل کی سطح پر بھی پارٹی لیڈروں اور ورکرز سے مل رہے ہیں ، سوشل میڈیا اکاؤنٹس پران سرگرمیوں کی باقاعدہ تشہیربھی کی جا رہی ہے۔

 

حمزہ شہبازکے ترجمان عمران گورایہ کا کہنا تھا کہ وہ کہیں غائب یا سیاست سے آؤٹ نہیں تھے۔پہلے بھی وہ ایسے ہی ملاقاتیں کر رہے تھے جیسے اب کر رہے ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کی تشہیر نہیں کی جا رہی تھی۔ اب ان ملاقاتوں میں وسعت آئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ نچلی سطح پر پارٹی کارکنوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وفاق اور پنجاب دونوں جگہ مسلم لیگ ن کی حکومت ہے لیکن نِچلی سطح پر کارکنوں میں یہ تاثر اُبھر رہا ہےا کہ جیسے ان کی بات سُنی نہیں جا رہی۔ اسی لیے سابق وزیراعلٰی نہ صرف کارکنوں کی بات سن رہے ہیں بلکہ ان کے کام بھی کرا رہے ہیں۔

 

حمزہ شہباز کی ان غیر معمولی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہناہے حکومت کا قریباً آدھا وقت گزر چکا ہے اور دو اڑھائی سال بعد پارٹیاں اپنی سیاسی صورتِ حال پر نظرثانی کرتی ہیں۔

 

کچھ ذرائع کا کہناہے کہ حمزہ شہباز پارٹی کے صوبائی صدر بننا چاہتے ہیں۔ یہ عہدہ تاحال رانا ثنا اللہ کے پاس ہے اور وہ وفاق میں مصروف ہیں۔حمزہ زور لگا رہے ہیں کہ انہیں پنجاب میں اپنے پاؤں مضبوط کرنے دیے جائیں تاکہ کل اگر مریم نواز وفاق کا رُخ کرتی ہیں تو انہیں صوبے میں کام کرنے کا راستہ مل سکے۔

 

دوسری طرف حمزہ شہباز کے قریبی ذریعے نےبتایا کہ حمزہ کو وفاق میں کوئی اہم ذمہ داری دی جا رہی ہے۔اس مقصد کے لیے ان کی ٹیم نے تیاری شروع کی ہوئی ہے، لیکن ابھی صورتِ حال کچھ واضح نہیں ۔