سعودی عرب کی سربراہی میں 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اسرائیل کی قانون سازی کی شدید مذمت
یہ قانون نسل پرستی کے نظام کو جنم دینے والا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی نفی کرنے والا ہے۔
ریاض: سعودی عرب، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض حکومت کی پارلیمنٹ میں ایک قانون نافذ کرنے کی شدید مذمت کی ہے، جو فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ قانون نسل پرستی کے نظام کو جنم دینے والا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی نفی کرنے والا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس قانون کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ اور علاقائی استحکام متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
#Statement | The Foreign Ministers of the Kingdom of Saudi Arabia, the Arab Republic of Egypt, the Hashemite Kingdom of Jordan, the Republic of Indonesia, the Islamic Republic of Pakistan, the State of Qatar, the Republic of Türkiye and the United Arab Emirates strongly condemned… pic.twitter.com/vAKktLcd0r
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) April 2, 2026
بیان میں اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی، تشدد، فاقہ کشی، ذلت آمیز سلوک اور بنیادی انسانی حقوق سے انکار پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسلی امتیازی اور جارحانہ پالیسیوں کے خلاف اپنی مخالفت کا اعادہ کیا اور قابض اقدامات کو فوری طور پر روکے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر احتساب اور کوششیں مضبوط کی جائیں تاکہ استحکام قائم رہے اور مزید بحران پیدا ہونے سے روکا جا سکے۔