بریکنگ امریکی حکام نے ایران کے ہاتھوں امریکا کا طیارہ تباہ ہونے کی تصدیق کردی

پائلٹس کو ڈھونڈنے کیلئے امریکہ کا زمینی آپریشن شروع، ایف 55 طیارہ تھا،ایران کا دعویٰ

               

امریکہ کے معروف اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور برطانوی خبر رویئٹرز سے گفتگو میں امریکی حکام نے ایران کے ہاتھوں ایک امریکی طیارہ تباہ کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ایران میں گر کر تباہ ہونے والے ایک امریکی لڑاکا طیارے کے عملے کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، اور متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد ایرانی حدود کے اندر کسی امریکی جیٹ کی تباہی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اس سے پہلے جمعہ کو ایرانی سرکاری میڈیا (IRIB) نے پہلے ہی دعویٰ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کے فضائی دفاعی نظام نے ایک امریکی جنگی طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، جبکہ سکیورٹی اداروں کے قریب سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی نے تباہ شدہ طیارے کے ملبے کی مبینہ تصاویر بھی عام کر دی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ اعلان کیا ہے کہ جو بھی شہری امریکی عملے کے ارکان کو زندہ حالت میں تلاش کر کے حکام کے حوالے کرے گا اسے بھاری انعام سے نوازا جائے گا۔

عرب ٹی وی الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے مغربی علاقوں میں امریکی پائلٹس لاپتہ ہو گئے ہیں اور ایرانی میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ امریکہ ان دو علاقوں میں اپنے پائلٹس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن کر رہا ہے جہاں وہ گرے تھے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایئر ڈراپ آپریشنز (فضا سے دستے اتارنے کی کارروائی) کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی افواج اور ایرانی زمینی دستوں کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں اور ان جھڑپوں میں حملہ آور فوج کو جانی نقصان اٹھانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ مار گرایا جانے والا طیارہ ایف 55 تھا جو امریکہ کے جدید ترین طیارے ایف 35 کا ایک خصوصی ورژن ہے۔

روسی خبررساں ادارے سپوٹنک نے بھی طیارے کے ملبے کی تصویریں جاری کی ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ طیارہ ایف 15 تھا اور اس کے دو پائلٹ ایران میں اترے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہےکہ امریکی طیارے اور ہیلی کاپٹر ایران پر نیچے پروازیں کرکے پائلٹوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

 

 

یاد رہے کہ کچھ ہفتے قبل بھی ایران نے امریکہ کے ایک ایف 35 طیارے کو نشانہ بنایا تھا جو ایک خلیجی ملک میں لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

اسی دوران سمندری حدود میں بھی اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں ایک فرانسیسی مال بردار بحری جہاز نے آبنائے ہرمز سے گزر کر سفر مکمل کیا، جو ایران کی جانب سے اس بحری راستے کی ناکہ بندی کے بعد کسی بھی مغربی یورپی بحری جہاز کی پہلی آمد و رفت ہے۔

کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج نے تہران کو اس کے پڑوسی شہر کرج سے ملانے والے ایک اہم پل پر بمباری کی ہے۔ اس دوران دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، جو کہ جہاز پر آگ لگنے کے باعث مرمت کے عمل سے گزر رہا تھا، اب دوبارہ ‘آپریشن ایپک فیوری’ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ اقوام متحدہ نے اس سنگین صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک خلیج فارس میں تقریباً 20 ہزار سیلرز پھنس کر رہ گئے ہیں۔