ماضی میں کن مواقع پر امریکی طیاروں کو مار گرایا گیا؟ تفصیلات جاری

امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ بی بی سی

               
April 4, 2026 · بام دنیا

امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کی مثال کم ہی ملتی ہے اور اسے ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ جو گذشتہ چند دہائیوں میں صرف دو مرتبہ ہوا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مارچ کے اوائل میں تین امریکی ایف-15 لڑاکا طیارے ’دوستانہ فائر‘ کے واقعے میں کویت میں گر کر تباہ ہو گئے تھے۔ لیکن اس واقعے میں عملے کے چھ ارکان بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

سینٹرل کمانڈ کے مطابق 12 مارچ کو مغربی عراق میں ایک دوسرے طیارے کے حادثے میں امریکی فوج کے ایندھن بھرنے والے طیارے کے عملے کے چھ ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔

سات اپریل 2003 کو عراق جنگ کے دوران ایک امریکی ایف-15 ای طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں پائلٹ ایرک داس اور ہتھیاروں کے افسر ولیم واٹکنز ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی بحریہ کی ویب سائٹ کے مطابق پرواز نے قطر کے العدید ایئر بیس سے اڑان بھری تھی اور اس نے عراق کے تکریت شہر میں اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔

امریکی فضائیہ کے مطابق ایک امریکی A-10 تھنڈربولٹ II طیارے کو بھی آٹھ اپریل 2003 کو بغداد میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے مار گرایا گیا تھا۔ طیارہ گرنے سے پہلے پائلٹ بحفاظت باہر نکل گیا تھا۔

ایک اور F-15E لڑاکا طیارہ مارچ 2011 میں شمال مشرقی لیبیا میں گر کر تباہ ہوا۔ پائلٹ کی بازیابی کے لیے چار طیارے اور دو ہیلی کاپٹر بھیجے گئے تھے۔