امریکی بمباری سے تباہ میزائل اڈے ایران چند گھنٹے میں دوبارہ فعال کر لیتا ہے، امریکی اخبار

میزائل صلاحیت برقرار ہے، نیویارک ٹائمز، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے دعووں پر شکوک کا اظہار

               
April 4, 2026 · امت خاص, بام دنیا

ایرانی میزائل مرکز کی امریکہ کی طرف سے جاری تصویر

امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکی اور اسرائیلی فضائیہ کی شدید بمباری کے باوجود تہران اپنی میزائل صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی دستے امریکی بمباری سے تباہ ہونے والے زیرِ زمین بنکرز اور میزائل لانچرز کو چند ہی گھنٹوں میں دوبارہ فعال کر لیتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے رواں ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ پانچ ہفتوں کی جنگ کے دوران ایران میں 11 ہزار اہداف کو نشانہ بنا کر دشمن کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایرانی میزائل حملوں میں کمی کو بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ تاہم، اخبار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی میزائل طاقت کو مکمل تباہ کرنے کا ہدف ابھی بہت دور ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنے موبائل لانچرز اور بیلسٹک میزائلوں کا بڑا حصہ تاحال محفوظ رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی جریدے ‘ہاریٹز’ اور دیگر ذرائع کے مطابق، ایرانی اہلکار بھاری مشینری اور بلڈوزرز کا استعمال کرتے ہوئے ان بنکرز کو دوبارہ کھود رہے ہیں جنہیں امریکی بمباری سے بند (Corked) کر دیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر تباہ نظر آنے والے زیرِ زمین ٹھکانے چند گھنٹوں بعد دوبارہ آپریشنل ہو جاتے ہیں، جہاں سے اسرائیل پر حملے جاری ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد کمی آئی ہے اور ان کی بحریہ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ لیکن انٹیلی جنس ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کمی صرف تباہی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایران کی ‘بچاؤ کی حکمتِ عملی’ کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ ایران اپنے قیمتی لانچرز کو غاروں اور بنکرز میں چھپا رہا ہے تاکہ طویل جنگ کی صورت میں اپنی طاقت بچا کر رکھ سکے اور خطے پر دباؤ برقرار رکھے۔

لیکن نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران اب بھی روزانہ 15 سے 30 بیلسٹک میزائل اور 50 سے 100 خودکش ڈرونز فائر کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ تعداد جنگ کے آغاز کے مقابلے میں کم ہے، لیکن یہ ثابت کرتی ہے کہ ایران کا میزائل نظام تاحال مفلوج نہیں ہوا۔ سابق حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ان کا ‘کمانڈ اینڈ کنٹرول’ نظام متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایک وقت میں بڑی تعداد میں میزائل فائر کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کے لیے ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ایران نے بڑی تعداد میں ‘ڈیکویز’ (نقلی لانچرز) بچھا رکھے ہیں۔ اس وجہ سے پینٹاگون کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ فضائی حملوں میں تباہ ہونے والے کتنے لانچرز اصلی تھے اور کتنے محض دھوکہ دینے کے لیے رکھے گئے تھے۔