ایران میں شدید لڑائی کے بعد امریکہ نے اپنا دوسرا پائلٹ بھی بازیاب کرا لیا، متعدد ایرانی جاں بحق

امریکی پائلٹ پہاڑی علاقے میں پناہ لیے ہوئے تھا، تباہ شدہ طیارے کے ملبے کو بھی نشانہ بنایا گیا

               

ایران کے جنوب مغربی علاقے میں امریکی اسپیشل فورسز اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد، امریکہ اپنے لاپتہ ہونے والے دوسرے پائلٹ کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پائلٹ کی بازیابی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی حکام اور معتبر ذرائع کے مطابق، یہ پیچیدہ ترین ریسکیو مشن ایران کے صوبہ کہگیلویہ و بویراحمد اور جنوب مغربی علاقوں میں انجام دیا گیا۔ یاد رہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب امریکہ کا ایک F-15E اسٹرائیک ایگل طیارہ ایرانی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس کے بعد سے ویپن سسٹم آفیسر (WSO) لاپتہ تھا۔

امریکی پائلٹ نے اپنی خصوصی ‘SERE’ تربیت کا استعمال کرتے ہوئے گرفتاری سے بچنے کے لیے ایک بلند پہاڑی سلسلے میں پناہ لی اور ہنگامی بیکن کے ذریعے اپنی لوکیشن فراہم کی۔

آپریشن کے دوران امریکی ایلیٹ فورسز، بشمول ایئر فورس پی جیز (Pararescuemen)، اور ایرانی زمینی دستوں کے درمیان آمنا سامنا ہوا۔ عینی شاہدین کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جائے وقوعہ پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورسز کے متعدد اہلکار جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز امریکی پائلٹ کی تلاش میں تھیں، تاہم امریکی فضائی اور زمینی دستوں نے گھیرے میں آئے پائلٹ کو بچانے کے لیے شدید مزاحمت کی۔ اس آپریشن میں کسی امریکی فوجی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی، البتہ دو امریکی ریسکیو ہیلی کاپٹرز ایرانی فائرنگ کی زد میں آکر نشانہ بنے ہوئے مگر بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔

عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق اس اپریشن میں سینکڑوں امریکی یلکاروں نے حصہ لیا

اس مشن کو کور فراہم کرنے والا ایک امریکی A-10 وارتھوگ (Warthog) طیارہ بھی تباہ ہوا، جو بعد ازاں کویت میں گرا، تاہم اس کا پائلٹ بھی محفوظ رہا۔ حساس آلات کو دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچانے کے لیے تباہ شدہ طیاروں کے ملبے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

علاقے میں لڑائی کے دوران سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی سامنے آئیں۔ مقامی قبائل بھی بڑی تعداد میں اس علاقے کی طرف جاتے دکھائی دیئے اور سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطار یں لگ گئی ۔

مشرقِ وسطیٰ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اس تنازع کے دوران پہلا موقع ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی سرزمین پر براہِ راست قدم رکھا اور کارروائی کی۔ اس وقت امریکی پائلٹ اور ریسکیو ٹیم کے تمام اراکین ایران سے باہر محفوظ مقام پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔ مقامی اطلاعات کے مطابق علاقے میں اب بھی کشیدگی برقرار ہے اور بڑی تعداد میں مقامی قبائل اور فورسز کی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے۔