ایران نے جنگ بندی تجویز مسترد کر دی
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتا،ترک میڈیا
ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مستقبل میں دوبارہ جنگ نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت چاہتا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتا، اس لیے تہران عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ نہیں۔
ایرانی حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز کا مسودہ موصول ہو چکا ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور فیصلے اپنے قومی مفادات کے تحت کرے گا۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران دونوں کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔
اس منصوبے میں دو مرحلے شامل ہیں، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی، جبکہ دوسرے مرحلے میں 15 سے 20 دن کے اندر ایک مکمل معاہدہ طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ معاہدے کو عارضی طور پر “اسلام آباد اکارڈ” کا نام دیا گیا ہے اور حتمی مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔
مجوزہ معاہدے کے تحت ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہو کر اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے گا، جبکہ اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کی تجاویز شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار فریقین کی رضامندی پر ہوگا۔