آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی،2 ہزار جہاز پھنس گئے

28 فروری سے یکم اپریل کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور گلف آف عمان کے اطراف 20 سے زائد جہازوں پر حملے رپورٹ ہوئے

               
April 7, 2026 · بام دنیا

آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں ناکہ بندی کے باعث تقریباً 2 ہزار بحری جہاز مختلف مقامات پر رُکے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی بحری ادارے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے یکم اپریل کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور گلف آف عمان کے اطراف 20 سے زائد جہازوں پر حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ دیگر جہاز متبادل راستوں پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ کچھ جہاز سوئز کینال کے راستے اور کچھ طویل سفر اختیار کر کے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کر رہے ہیں، جس سے وقت اور لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عسکری ماہرین کے مطابق ایران کی چھوٹی آبدوزیں اور ملٹی لیئر بحری دفاعی نظام اب بھی اس اہم گزرگاہ کے استعمال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں، جبکہ امریکا ایران کی بحری صلاحیت کو محدود قرار دیتا ہے۔

علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب نے بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کی اجازت سے صرف 15 جہاز گزر سکے ہیں، جو جنگ سے پہلے کے معمولات کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہیں۔