جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو معاشی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں گے،آئی ایم ایف

جنگ کے باعث عالمی تیل کی فراہمی میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے تیل، گیس، ہیلیم اور کھاد جیسی سپلائی چینز متاثر ہو رہی ہیں۔

               

واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور اگرچہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو معاشی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں گے۔

آئی ایم ایف کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع سے عالمی مہنگائی میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جنگ کے باعث عالمی تیل کی فراہمی میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے تیل، گیس، ہیلیم اور کھاد جیسی سپلائی چینز متاثر ہو رہی ہیں۔

کرسٹالینا جارجیوا نے بتایا کہ اگر جنگ جلد ختم ہو جائے اور بحالی تیز بھی ہو، تب بھی عالمی شرح نمو میں معمولی کمی اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ تاہم، اگر جنگ طویل ہو گئی تو اثرات زیادہ شدید ہوں گے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر توانائی سبسڈی مسئلہ حل نہیں کر سکتی، اور پالیسی سازوں کو ایسے اخراجات سے گریز کرنا چاہیے جو مہنگائی کو مزید بڑھائیں۔ غریب اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ توانائی پیدا کرنے والے ممالک بھی حملوں کے باعث اپنی پیداوار میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

متوقع ہے کہ ایران جنگ کے اثرات آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاسوں میں مالیاتی حکام کے درمیان زیر بحث آئیں گے۔