بھارتی ریاست منی پور میں فسادات پھر بھڑک اٹھے
بم حملے میں 2 بچے ہلاک، مشتعل مظاہرین کا فوجی کیمپ پر دھاوا،متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ
فوٹو سوشل میڈیا
منی پور: بھارتی ریاست منی پور میں نسلی فسادات ایک بار پھر بھڑک اٹھے ، جہاں مشتبہ شدت پسندوں کے بم حملے میں دو کمسن بچے ہلاک اور ان کی والدہ شدید زخمی ہوگئیں۔ اس واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
The situation in Manipur is getting worse. pic.twitter.com/9F8Ud298tn
— MANIPURTIMES (@MANIPURTIM42847) April 7, 2026
مقامی حکام کے مطابق، واقعہ ضلع بشنو پور کے علاقے ‘موئرانگ ترونگ لاؤبی’ میں رات گئے پیش آیا جب شدت پسندوں نے ایک رہائشی مکان پر دستی بم پھینکا۔ دھماکے کے وقت خاندان سو رہا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک 5 سالہ لڑکا اور محض 6 ماہ کی بچی شامل ہے۔ بچوں کی والدہ کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
بچوں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ بشنو پور میں مشتعل ہجوم نے مرکزی سکیورٹی فورسز (CRPF) کے کیمپ پر دھاوا بولا اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی مظاہرین نے موئرانگ پولیس اسٹیشن کے باہر ٹائر نذر آتش کیے اور پولیس چوکیوں میں توڑ پھوڑ کی۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس میں کم از کم 4 مظاہرین زخمی ہوئے۔
صورتحال بے قابو ہونے پر منی پور حکومت نے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، وادی کے 5 حساس اضلاع (امپھال ویسٹ، امپھال ایسٹ، تھوبل، کاکچنگ اور بشنو پور) میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز 3 روز کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
منی پور کے وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے اس واقعے کو “انسانیت پر حملہ” قرار دیتے ہوئے مجرموں کو سخت سزا دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔