سب سے زیادہ اعزازات لینے والا آسٹریلوی فوجی افسر افغانستان میں جنگی جرائم پر گرفتار

افغان شہریوں کو حراست کے دوران قتل کیا تھا، انکشاف کرنے والے اخبار کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ مہنگا پڑ گیا۔

               
فائل فوٹو

فائل فوٹو

ہوبارٹ: آسٹریلیا کے سب سے زیادہ اعزاز یافتہ سابق فوجی افسر کو افغانستان میں نہتے شہریوں کے قتل کے الزامات میں گرفتار کر کے جنگی جرائم کے پانچ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جن میں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

آسٹریلوی حکام کے مطابق 47 سالہ سابق فوجی، بین رابرٹس سمتھ کو سڈنی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ آسٹریلین فیڈرل پولیس کا کہنا ہے کہ ان پر 2009 سے 2012 کے دوران افغانستان میں 5 افراد کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مبینہ طور پر جن افراد کو قتل کیا گیا وہ اس وقت کسی لڑائی میں شامل نہیں تھے بلکہ حراست میں، غیر مسلح اور آسٹریلوی فوج کے کنٹرول میں تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ الزامات کے مطابق یا تو ملزم نے خود ان افراد کو گولی ماری یا اپنے ماتحت اہلکاروں کو ان کے قتل کا حکم دیا۔

آسٹریلوی پولیس کمشنر کرسی بیرٹ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ متاثرین کو حراست میں لینے کے بعد قتل کیا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت سنگین جنگی جرم ہے۔

ملزم کو عدالت میں پیش کیے جانے تک ضمانت نہیں دی گئی، اور وہ بدھ کے روز ضمانت کی درخواست کے لیے عدالت میں پیش ہوں گے۔

بین رابرٹس اسمتھ کو ماضی میں قومی ہیرو قرار دیا جاتا رہا ہے اور انہیں افغانستان میں خدمات کے دوران کئی اعلیٰ عسکری اعزازات سے نوازا گیا، جن میں آسٹریلیا کا سب سے بڑا فوجی اعزاز وکٹوریا کراس بھی شامل ہے۔ وہ 2006 سے 2012 کے درمیان چھ مرتبہ افغانستان میں تعینات رہے۔

تاہم وہ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ یہ الزامات پہلی بار 2018 میں آسٹریلوی میڈیا گروپ نائن انٹرٹینمنٹ کی رپورٹنگ میں سامنے آئے تھے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک نہتے افغان نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کیا اور ایک ہتھکڑی لگے شخص کو چٹان سے نیچے پھینکنے کے بعد اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں رابرٹس سمتھ نے ان رپورٹس کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا، جو آسٹریلیا کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس بن گیا، تاہم 2023 میں عدالت نے قرار دیا کہ میڈیا کی جانب سے لگائے گئے چھ میں سے چار قتل کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف ان کی آخری اپیل بھی 2025 میں مسترد کر دی گئی۔

مزید برآں، 2020 میں جاری ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ آسٹریلیا کی خصوصی فورس اسپیشل ایئر سروس رجمنٹ کے بعض اہلکاروں کی جانب سے افغانستان میں درجنوں نہتے قیدیوں کے قتل کے قابلِ اعتبار شواہد موجود ہیں۔

یہ مقدمہ نہ صرف آسٹریلوی فوج بلکہ افغانستان جنگ میں مغربی افواج کے کردار پر بھی ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔