رات گئے پاکستان کی آخری سفارتی کوشش۔وزیر اعظم شہباز شریف کی اہم ٹویٹ، ایران جنگ میں 14 روزہ عبوری حل پیش

جنگ کا پرامن حل نکالنے کے لیے کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں

               
April 8, 2026 · امت خاص, بام دنیا

ایران کے خلاف امریکی ڈیڈ لائن کے تناظر میں سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے رات گئے پاکستان کی طرف سے آخری کوشش ہوئی ہے۔ اسلام آباد نے 14 روزہ عبوری حل تجویز کیا ہے جس میں دونوں فریقوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹ جائیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں پوری قوت اور پائیداری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں، جن سے مستقبل قریب میں ٹھوس نتائج برآمد ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

 

ایکس پر وزیراعظم نے لکھا ہےسفارتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے، میں صدر ٹرمپ سے پرزور گزارش کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کر دیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان خلوص نیت کے ساتھ ایران سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دے۔

 

وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایران صدر مسعود پزشکیان، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر شخصیات کو ٹیگ بھی کیا ہے۔

 

وزیراعظم شہباز شریف نےفریقین پر زور دیا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے مکمل جنگ بندی کریں تاکہ سفارتکاری کو موقع ملے اور جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔

 

انہوں نے کہاکہ یہ اقدامات خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے نہایت ضروری ہیں اور عالمی برادری کو بھی اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اس تنازع کو ختم کرانے کے لیے متحرک رہا ہے۔

دریں اثنا، بین الاقوامی جریدے بلوم برگ کے مطابق ایران پر حملوں کی ڈیڈلائن کے قریب آتے آتے پاکستان اور مصر نے جنگ بندی کی اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔

 

بلوم برگ کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں پاکستان اور مصر نے جنگ بندی کی کوششوں کے لیے متعدد ٹیلی فون کالز کی ہیں۔

 

بلوم برگ نے لکھا ہے کہ پاکستان اور مصر دونوں ملک مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ پیر کو کہہ چکے تھے کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے ذریعے ایران سے بات کر رہے ہیں۔

 

مصری وزیر خارجہ کے مطابق انہوں نے منگل کو امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بات کی ہے۔

 

دوسری جانب سینئر ایرانی ذرائع نے خبرایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان سے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے لیکن امریکا نے اپنا لہجہ نہیں بدلا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے ایران کو جو الٹی میٹم دیا ہے وہ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بجے ختم ہو جائے گا۔