پاکستان کی سفارتکاری کامیاب۔ جنگ بندی کیسے ممکن ہوئی؟
پاکستانی سفارتی کوششیں رنگ لائیں۔ کامیاب سفارتکاری کی دنیا بھر معترف ہوگئی
پاکستانی سفارتی کوششیں رنگ لائیں۔ کامیاب سفارتکاری کی دنیا بھر معترف ہوگئی۔
منگل اور بدھ کی درمیانی رات تین بج کر 32 منٹ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کریں تاکہ سفارت کاری جنگ کے حتمی خاتمے تک پہنچ سکے، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’سفارت کاری کو اپنا راستہ مکمل کرنے دینے کے لیے، میں صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ نیک نیتی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔
اس اپیل کے بعد پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس حوالے سے پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال صورتحال ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے۔
رضا امیری نے تجویز دی کہ اگلے مرحلے میں ضروری ہے کہ احترام اور باہمی شائستگی کو ترجیح دی جائے، اور بیان بازی اور غیر ضروری تکرار کی جگہ سنجیدگی لے۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے علاقے جبیل میں ایک پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر حملہ کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون اور میزائل حملہ ایران میں پیر کے روز پیٹرو کیمیکل پلانٹس کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیا گیا۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کی تصدیق کے بعد راولپنڈی میں کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ سعودی پر حملے قابلِ مذمت ہیں، ایران تنازع کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچارہا ہے۔
کورکمانڈر کانفرنس میں کہا گیا کہ سعودی عرب پر حملے ایک غیر ضروری کشیدگی ہے جب کہ شرکا نے سعودی پر پٹروکیمکل اور صنعتی کمپلیکس حملے کی شدید مذمت کی۔
بعد ازاں ٹرمپ کی طرف سے دی گئی ڈیڈلائن وقت ختم ہو رہا تھا۔ رات گئے وزیراعظم شہبازشریف نے اپنی سفارت کوششیں تیز کردیں۔ اور پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں امریکی صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز مان لی۔
اور ایران نے بھی پاکستان کی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی۔