صرف 90منٹ پہلے کائونٹ ڈائون کیسے رکا؟بڑی تباہی ٹالنے والی پاکستانی’سفارت گری‘

وہ چند گھنٹے جب وقت کی سانسیں تھمنے لگی تھیں ۔ پھرایک ٹویٹ آئی اور دم توڑتی امیدوں کونئی زندگی مل گئی

               
April 8, 2026 · امت خاص, قومی

 

منگل اور بدھ کی درمیانی رات ،آبنائے ہرمزکھولنے کے لیے ایران کو امریکی الٹی میٹم تیزی سے ختم ہونے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے ایک پوری تہذیب کے مٹ جانے کی دھمکی دے کر بھیانک تباہی کےخدشات کوقوی کردیا۔

 

منگل کو سعودی پیٹروکمپلیکس پر ایرانی حملے کے بعد پاکستانی دفترخارجہ اور کور کمانڈرزکانفرنس نےمذمت پرمبنی ردعمل جاری کیا۔ فوج نے کہا کہ ایران بلاجوازجارحیت سے تنازع کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچارہا ہے۔دوسری طرف ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورت حال مخدوش ہوتی دکھائی دے رہی تھی،اور امیدیں دم توڑرہی تھیں۔ہرطرف مکمل خاموشی تھی۔ کائونٹ ڈائون شروع ہوچکاتھا۔

 

عالمی ذرائع ابلاغ کسی پیش رفت کے متلاشی تھے۔پوری دنیاکا میڈیا وہ خبر ڈھونڈرہاتھا جس کا دوردورتک نام ونشان تک بھی نہیں تھا۔امریکی صدرنے آبنائے ہرمزکھولنے کے لیے7 اپریل شام8بجے ایسٹرن ٹائم کی ڈیڈلائن دی تھی۔پاکستانی وقت کے مطابق 8 اپریل کی صبح 5 بجے،اور ایران کے مطابق صبح 3بجے ۔ٹائم زون مختلف لیکن اندیشے اور وسوسے ہرجگہ ایک جیسے تھے۔

 

ایسے میں اسلام آباد سے روشنی کی کرن چمکی۔پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے رات 12 بجے ٹویٹ کی جس میں 14 روزہ جنگ بندی کی تجویزپرمشتمل عبوری حل پیش کیا گیا۔شہبازشریف نے لکھاکہ سفارت کاری کو راستہ دینے کے لیے، میں مخلصانہ طور پر صدر ٹرمپ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن کو دو ہفتے کے لیے بڑھا دیں۔ پاکستان ایرانی بھائیوں سے بھی درخواست کرتا ہے کہ وہ دو ہفتے کی اسی مدت کے لیے ہرمز کی آبنائے کو کھول دیں، جو ایک نیک نیتی کا اظہار ہوگا۔

 

شہبازشریف کی ٹویٹ نے جمود ختم کردیا۔دیکھتے ہی دیکھتے دنیابھرکے میڈیااور سوشل میڈیاپریہ ٹویٹ جنگل کی آگ بن کر پھیلی۔دم توڑتی امیدوں کونئی زندگی ملی اورعالمی دارالحکومتوں میں ہل چل مچ گئی۔

 

امریکی میڈیانے بتایاکہ پاکستانی وزیراعظم کی تجویزصدرٹرمپ تک پہنچادی گئی ہے اور اس پر جواب آئے گا۔ امریکہ کے نشریاتی ادارے نے کہا کہ پاک فوج کے سربراہ ، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈمارشل عاصم منیر بھی ا س معاملے میں براہ راست سرگرم ہیں۔فوری ردعمل کے طورپرتہران سے بھی مثبت اشارے کے خبر آئی۔

 

اس تمام صورت حال کے درمیان ایک تجزیہ کارنے الجزیرہ کو بتایاکہ اسرائیل دراصل ایران پرجوہری حملہ کرنے جارہا ہے۔اس کے لیے ٹیکٹیکل ہتھیار استعمال ہوگا۔

 

یوں ایک ٹویٹ نے سفارت کاری کو سفارت گری میں بدل دیا۔