لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں جنگ بندی کا حصہ نہیں ، ترجمان وائٹ ہائوس

صدر ٹرمپ ایرانی میڈیا میں آبنائے ہرمز کی بندش کی خبروں سے باخبر ہیں ،کیرولین لیویٹ

               
April 8, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایران کے حالیہ 10 نکاتی امن منصوبے کو ‘غیر سنجیدہ’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، تاہم انہوں نے تصدیق کی ہے کہ فریقین کے درمیان ایک متبادل اور “قابلِ عمل” منصوبے پر بات چیت جاری ہے جسے واشنگٹن نے مذاکرات کے لیے بہتر بنیاد تسلیم کیا ہے۔

 کیرولین لیویٹ نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ ایرانی میڈیا میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کی خبروں سے باخبر ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ ایران اس اہم تجارتی گزرگاہ کو “فوری، تیز رفتاری اور بحفاظت” دوبارہ کھولے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ اگلے دو ہفتوں تک مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا رہے اور وہاں جہازوں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی یا تاخیر نہ ہو۔

ترجمان نے یہ اہم وضاحت بھی کی کہ لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں موجودہ سیز فائر (جنگ بندی) کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، “لبنان اس جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے اور یہ بات تمام متعلقہ فریقین کو واضح طور پر بتا دی گئی ہے۔”

کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنا افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) حوالے کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے اسے صدر ٹرمپ کی “ریڈ لائن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر اس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔

کیرولین لیویٹ نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ یہ مقصد سفارت کاری کے ذریعے حاصل ہو جائے گا، لیکن صدر ٹرمپ اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔