آبنائے ہرمز کھلنے پر ایران میں بعض حلقے ناخوش
پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اسلام آباد میں امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات کریں گے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہوں گے۔
ایران میں سخت گیر عناصر نے تہران کے ایک مصروف چوراہے پر بینر لگا کر اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز بند رہے گا، جو ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے حکم نامے کی طرف اشارہ تھا۔
تاہم، پاکستان کی درخواست اور ایران کی عارضی جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے پر رضامندی دی گئی، جس سے سخت گیر عناصر میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ان کے احتجاج میں بسیج رضاکار ملیشیا نے وزارت خارجہ کی طرف مارچ کیا اور سرکاری ٹی وی پر اس فیصلے کو “دشمن کے لیے تحفہ” قرار دیا گیا۔
سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کے بدلے میں آبنائے ہرمز سے دو ہفتوں کے لیے محفوظ راستہ ممکن ہو گا، جبکہ واشنگٹن اور تہران مذاکرات میں مصروف ہیں۔ چین نے پاکستان کی درخواست پر ایران کو رضامند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اسلام آباد میں امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات کریں گے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان دیرپا امن کا امکان محدود ہے اور مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔
یہ اقدام عوام اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے کچھ راحت فراہم کرتا ہے، جبکہ سخت گیر دھڑوں کے حامی ایران کی بالادستی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف جارحانہ موقف کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔