نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے جنگ بند نہیں کر رہے ، ایرانی وزیر خارجہ
اگر امریکہ نے نیتن یاہو کو سفارت کاری کا گلا گھونٹنے کی اجازت دی، تو امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا ، عراقچی
فائل فوٹو
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف اپنی ممکنہ قید سے بچنے کے لیے جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری ایک بیان میں عباس عراقچی نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی مخاطب کیا اور خبردار کیا کہ وہ نیتن یاہو کے ہاتھوں امریکی معیشت کو تباہ نہ ہونے دیں۔
Netanyahu's criminal trial resumes on Sun. A region-wide ceasefire, incl in Lebanon, would hasten his jailing.
If the U S. wishes to crater its economy by letting Netanyahu kill diplomacy, that would ultimately be its choice. We think that would be dumb but are prepared for it.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 9, 2026
عراقچی کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو جانتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ہوتے ہی انہیں قانونی کارروائی اور ممکنہ طور پر جیل کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی لیے وہ سفارت کاری کی ہر کوشش کو ناکام بنا رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے نیتن یاہو کو سفارت کاری کا گلا گھونٹنے کی اجازت دی، تو اس کے نتیجے میں امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے مزید لکھا اگر امریکہ نیتن یاہو کو سفارت کاری ختم کرنے کی اجازت دے کر اپنی معیشت تباہ کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا اپنا انتخاب ہوگا۔ ہمارے خیال میں یہ ایک بیوقوفی ہوگی، لیکن ہم اس صورتحال کے لیے مکمل تیار ہیں۔