“آوٹ آف دا بلیو”:امریکی خاتونِ اول کا جیفری ایپسٹین سے تعلقات کی پرزور تردید پر مبنی حیران کن بیان

مجھے بدنام کیا جا رہا ہے۔ میلانیا ٹرمپ کی بریفنگ

               
April 10, 2026 · امت خاص, بام دنیا

 

امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی اور حیران کن بیان جاری کرتے ہوئے بدنام اخلاقی مجرم جیفری ایپسٹین سے اپنے کسی بھی قسم کے تعلقات، دوستی یا اس کے جنسی جرائم کی معلومات رکھنے کی مکمل تردید کر دی ۔

 

انہوں نے کہا کہ بدنام کرنے والے جھوٹ، جن میں مجھے اس شرمناک جیفری ایپسٹین سے جوڑا جا رہا ہے، کا آج ہی خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ افواہیں اور کہانیاں مکمل طور پر جھوٹی ہیں اور  الزامات مجھے بدنام کرنے کی مہم ہیں۔

 

میلانیا ٹرمپ نے تقریباً پانچ سے چھ منٹ تک گرینڈ فوائر میں اپنا بیان پڑھا اور کہا کہ جو لوگ میرے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں وہ اخلاقی معیار، عاجزی اور احترام سے یکسر محروم ہیں۔ میں ان کی جہالت پر اعتراض نہیں کرتی، بلکہ میں ان کی بدنیتی پر مبنی کوششوں کو مسترد کرتی ہوں جو میری ساکھ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایپسٹین کی دوست کبھی نہیں رہیں۔میلانیا کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ اور وہ کبھی کبھار انہی پارٹیوں میں مدعو ہوتے تھے جہاں ایپسٹین بھی ہوتا تھا، کیونکہ نیویارک سٹی اور پام بیچ میں سماجی حلقوں کا اوورلیپ ہونا عام ہے۔ خاتون اول کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایپسٹین یا اس کی ساتھی گیسلین میکسویل سے کبھی کوئی تعلق نہیں رکھا۔میلانیا نے یہ بھی کہا کہ 2002 کا ای میل محض غیر رسمی خط و کتابت اور ایک شائستہ جواب تھا۔

 

ٹرمپ کی اہلیہ نے میڈیا کو بتایا کہ ایپسٹین نے انہیں ڈونلڈ ٹرمپ سے متعارف نہیں کرایا۔ ان کی ملاقات 1998 میں نیویارک سٹی کی ایک پارٹی میں اتفاقاً ہوئی تھی۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایپسٹین کی متاثرین میں سے نہیں اور انہیں اس کے جرائم کا کوئی علم نہیں تھا۔ وہ کبھی اس کے طیارے پر سوار نہیں ہوئیں اور نہ اس کے نجی جزیرے پر گئیں۔

 

میلانیا ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی تصاویر اور بیانات کو بھی جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ ان کے وکلا ان بے بنیاد جھوٹوں کے خلاف کامیابی سے لڑ رہے ہیں۔

 

انہوں نے ایپسٹین کے جرائم کے متاثرین کے لیے کانگریس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اب کانگریس کے لیے عمل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ میں مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ ایپسٹین کے ذریعے متاثرہ خواتین کے لیے ایک عوامی ہیئرنگ کا اہتمام کرے۔

 

میلانیا نے کہا کہ ہر ایک عورت کو، اگر وہ چاہے تو، عوام کے سامنے اپنی کہانی سنانے کا موقع ملنا چاہیے، اور پھر اس کی گواہی کو مستقل طور پر کانگریشنل ریکارڈ میں درج کر دیا جائے۔ اسی صورت میں ہم حقیقت جان سکیں گے۔

 

برطانوی اور امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ یہ بیان اچانک اور بغیر کسی پیشگی اشارے کے سامنے آیا۔وائٹ ہاؤس کے ایکس اکاؤنٹ نے بھی اس بیان کی ویڈیو شیئر کی۔

 

بی بی سی کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اس اعلان کی کیا وجہ بنی۔ان کے دفتر کی طرف سے ایپسٹین کے بارے میں کوئی پیشگی اشارہ نہیں کیا گیا تھا، اور وائٹ ہاؤس نے جب ان کے ریمارکس کا روزانہ شیڈول شیئر کیا تو اس میں ذکر نہیں تھا۔

 

ایسوسی ایٹڈ پریس نے میلانیا کے بیان کو غیر معمولی قرار ڈیا۔ اے پی کے مطابق خاتونِ اول نے تقریباً پانچ منٹ تک بات کی، گرینڈ فوائر میں اپنا بیان پڑھا، پھر بغیر کسی سوال کا جواب دیے چلی گئیں۔

 

وائٹ ہاؤس میں میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور ان کے وکلا آنجہانی فنانسر سے اپنے تعلقات کے حوالے سے بے بنیاد اور بے سروپا جھوٹ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

 

میلانیا ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس رابرٹ گارسیا نے کہا کہ وہ خاتونِ اول کے عوامی ہیئرنگ کے مطالبے سے متفق ہیں اور ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر سے فوری کارروائی کی اپیل کی۔

 

میلانیا ٹرمپ نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اب حقیقت سامنے لانے کا وقت ہے۔

صدر ٹرمپ کو معلوم تھا یا نہیں؟
سی این این کا ایک ذریعے کے حوالے سے کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی اہلیہ کے اس بیان کی منصوبہ بندی کا علم تھا۔ تاہم، بیان کے فوراً بعد ایم ایس این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں پہلے سے کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔

 

سی این سی۔ کے مطابق ،ایپسٹین کے کئی متاثرین اس بیان سے حیران رہے۔ کیپیٹل ہل کے ذرائع نے بھی کہا کہ انہیں یہ واضح نہیں کہ خاتونِ اول نے اچانک یہ بیان کیوں دیا۔

 

میلانیا ٹرمپ نے پہلے بھی ایپسٹین سے اپنے نام کو جوڑنے کی کوششوں کے خلاف قانونی کارروائی کی تھی اور انہیں بدنیتی پر مبنی، سیاسی طور پر محرک بدنام کرنے کی مہم قرار دیا تھا۔

 

یہ بیان خاتونِ اول کا ایپسٹین کے موضوع پر پہلا عوامی خطاب ہے۔ فروری میں ایک غیر متعلقہ تقریب کے دوران جب ان سے میکسویل کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اسے نظر انداز کر دیا تھا۔