جنگ بندی کے باوجود عالمی معیشت غیر مستحکم رہ سکتی ہے،عالمی بینک

مشرقِ وسطیٰ میں تنازع اگر دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے معاشی اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔

               
April 11, 2026 · بام دنیا

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود عالمی معیشت غیر مستحکم رہ سکتی ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے طویل مدتی اثرات عالمی ترقی پر مرتب ہوں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع اگر دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے معاشی اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کے باعث عالمی ترقی کی شرح میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں کی زندگی پر پڑے گا۔

اجے بنگا کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ گیس، کھاد، ٹرانسپورٹ اور فضائی سفر سمیت مختلف شعبے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ بات چیت دیرپا امن اور توانائی کی سپلائی لائنز کے استحکام کا سبب بن سکتی ہے یا نہیں۔

عالمی بینک کے مطابق اگر صورتحال جلد بہتر ہو بھی جائے تو عالمی ترقی کی شرح میں معمولی کمی کا امکان ہے، جبکہ تنازع طویل ہونے کی صورت میں یہ کمی مزید بڑھ سکتی ہے۔

ادارے نے ترقی پذیر ممالک کو خبردار کیا ہے کہ مہنگی توانائی سبسڈیز سے گریز کیا جائے اور متبادل توانائی ذرائع پر سرمایہ کاری بڑھائی جائے تاکہ مستقبل کے معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔