خلیجی اتحادیوں کا امریکی اسلحے پر انحصار کم۔متبادل ذرائع کی تلاش تیز

فضائی بمباری نے خطے میں فضائی دفاعی نظام کے ذخائر کو نمایاں حد تک کمزور کردیا

               
April 13, 2026 · بام دنیا

وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور مسلسل فضائی حملوں کے بعد خلیجی ممالک نے دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کر دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید فضائی بمباری نے خطے میں فضائی دفاعی نظام کے ذخائر کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا، جس کے بعد اب دوبارہ اسلحہ حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔

نازک جنگ بندی کے تناظر میں، جو امریکہ اور ایران کے درمیان قائم ہوئی، امریکہ کے قریبی اتحادی ممالک—بشمول متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اور قطراب دفاعی نظام کی فراہمی کے لیے دنیا بھر میں نئے آپشنز تلاش کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ممالک نہ صرف جنوبی کوریا کے جدید دفاعی نظاموں بلکہ برطانیہ کے نسبتاً کم لاگت میزائل سسٹمز پر بھی غور کر رہے ہیں، تاکہ کم وقت میں اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے عالمی اسلحہ منڈی میں مقابلہ مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ امریکہ کی روایتی برتری کو بھی چیلنج درپیش ہوسکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سیکورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔