چین اور فرانس کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، مشرقِ وسطیٰ تنازع سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا مشورہ
تنازعات کو دوبارہ بھڑکانے کے بجائے سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا، چین
فائل فوٹو
پیرس۔ بیجنگ :چین اور فرانس نے فریقین کو مشورہ دیا ہےکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، مشرقِ وسطیٰ تنازع سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جائے۔
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ’سفارتی ذرائع کے ذریعے جلد از جلد ایک مضبوط اور دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا تصفیہ خطے کو ایک مستحکم فریم ورک فراہم کرے گا، جس کے تحت تمام فریق امن اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
صدر میکخواں کا ایکس پر جاری بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ تمام بنیادی مسائل کے مستقل حل تلاش کیے جائیں، جن میں ایران کی جوہری اور بیلسٹک سرگرمیوں، خطے میں اس کے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات، آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا تعطل جہاز رانی کی فوری بحالی اور لبنان کی مکمل خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ امن کی راہ پر واپسی شامل ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانس اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ وہ تنازع کے آغاز سے ہی کرتا آیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے صدر کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز میں برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں وہ ممالک شریک ہوں گے جو ایک پُرامن، کثیر القومی مشن میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس مشن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی ہے۔ یہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور تنازع کے فریقین سے الگ رہے گا اور حالات سازگار ہوتے ہی تعینات کیا جائے گا۔
دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’چین اس بات کی اُمید کرتا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی، تنازعات کو دوبارہ بھڑکانے کے بجائے سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’چین اس بات کا خواہش مند ہے کہ خلیجی خطے میں جلد امن کی بحالی کے لیے سازگار حالات پیدا ہوں گے۔‘