اسلام آباد میں لوڈشیڈنگ اور مارکیٹ اوقات پر تاجروں کا تحفظات
وفاقی دارالحکومت کے بازاروں میں اوقات کار کے نام پر کاروباری طبقے کی تذلیل کی جا رہی ہے، سردار طاہر محمود
فائل فوٹو
افضل شاہ یوسفزئی
اسلام آباد : پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس سردار طاہر محمود نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی بات درست ہے کہ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں سرمایہ کار دوست ماحول ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی پالیسیوں کو بہتر بنایا جائے تو بیرون ملک منتقل ہونے والی سرمایہ کاری، خصوصاً دبئی جانے والی سرمایہ کاری، واپس لائی جا سکتی ہے.
سردار طاہر محمود نے کہا کہ ملک میں سالانہ دو کروڑ گھروں کی ضرورت ہے، تاہم تعمیراتی اور تجارتی شعبہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق پیک آورز میں دو سے اڑھائی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے.
انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے بازاروں میں اوقات کار کے نام پر کاروباری طبقے کی تذلیل کی جا رہی ہے، جبکہ اسلام آباد میں حکومتی مجبوری کو سمجھتے ہوئے تاجر برادری اوقات کار پر عملدرآمد کر رہی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی و تجارتی شعبے کو لوڈشیڈنگ اور مارکیٹ اوقات کے باعث شدید مسائل درپیش ہیں، اور کاروباری مراکز میں 6 سے 7 گھنٹے کی بندش صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بازاروں کے اوقات کار میں نرمی کی جائے اور انہیں دیگر شہروں کی طرز پر رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے.
انہوں نے واضح کیا کہ تاجر برادری حکومت اور اداروں کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم پالیسی سازی میں تاجر طبقے کو اعتماد میں لیا جائے.
اس موقع پر انجمن تاجران پاکستان کے صدر اجمل بلوچ نے کہا کہ دبئی میں سرمایہ کاری کرنے والوں اور کالے دھن سے پراپرٹی خریدنے والوں میں تاجروں کے نام شامل نہیں ہیں