نیوکلیئر کوڈز استعمال کرنے کی ناکام کوشش۔ٹرمپ کے خلاف وائرل دعوے میں کتنی حقیقت ہے؟

کسی معتبر خبر رساں ادارے یا سرکاری اہلکار نے اس بات کی تصدیق نہیں کی

               
April 22, 2026 · امت خاص

 

امریکی صدرٹرمپ کے بارے میں ایک خبر وائرل ہے جس میں گذشتہ دنوں نیوکلیئر کوڈزاستعمال کرنے کی ناکام کوشش کا دعویٰ کیا گیاہے۔جریدہ’’ نیوزویک‘‘ کے مطابق ،یہ دعویٰ سی آئی اے کے سابق افسر لیری جانسن کے ان تبصروں سے شروع ہوا جو انہوں نے 20 اپریل کو ججنگ فریڈم (Judging Freedom) نامی ایک پوڈ کاسٹ اور یوٹیوب ٹاک شو میں کیے، جس کی میزبانی فاکس نیوز کے سابق قانونی تجزیہ نگار اینڈریو ناپولیٹانو کر رہے تھے۔

 

جانسن نے الزام لگایا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک ہنگامی اجلاس اس وقت تلخ کلامی میں بدل گیا جب جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین، جنرل ڈین کین نے مبینہ طور پر صدارتی حکم کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔

 

جانسن کے مطابق، یہ ایک بڑا زبانی جھگڑاتھا، جس کے نتیجے میں جنرل کین نے مبینہ طور پر نیوکلیئر کوڈزکے استعمال میں سہولت فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ ثبوت کے طور پر، پوڈ کاسٹ میں جنرل کین کی وائٹ ہاؤس کے گراؤنڈ میں سر جھکا کر چلنے کی فوٹیج دکھائی گئی۔ بعد ازاں شو کے دوران ناپولیٹانو نے بھی جنرل کی باہر چہل قدمی کی فوٹیج دکھائی جس میں وہ پریشان حال نظر آ رہے تھے۔

 

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کا کہناہے کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ اگرچہ 18 اپریل کو ایران جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد ہوئے تھے، لیکن کسی معتبر خبر رساں ادارے یا سرکاری اہلکار نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ایٹمی حملے کا اختیار استعمال کرنے کا ارادہ کیا گیا۔

 

کچھ ریپبلکن قانون سازوں نے بھی اس الزام پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ شمالی کیرولائنا کے سینیٹر تھوم ٹِلس نے نیوز ویک کو بتایاکہ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے مجھے کم از کم دو ذرائع سے تصدیق چاہیے۔ میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ کبھی کوئی سنجیدہ زیرِ غور بات رہی ہو گی۔

 

ذرائع کے مطابق جنرل کا کوڈزدینے سے انکار بھی امریکی نیوکلیئر کمانڈاینڈکنٹرول سسٹم سے متصادم ہے۔پروٹوکولز کے تحت، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا چیئرمین ایک مشیر ہوتا ہے، کمانڈر نہیں۔ ان کے پاس لانچ آرڈر بھیجنے، منسوخ کرنے یا روکنے کا کوئی آپریشنل اختیار نہیں اور ان کا کردار خالصتاً مشاورتی ہے۔

 

اگرچہ لانچ آرڈر کے لیے دو افراد کے قاعدے(Two-Person Rule) کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی فرد تنہا کوئی اہم کارروائی شروع یا مکمل نہ کر سکے، لیکن یہ نظام اس لیے بنایا گیا ہے کہ کمانڈر ان چیف (صدر) کے قانونی حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

 

لیری جانسن کے انٹیلی جنس معاملات پر دعووں کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتارہا ہے۔ جانسن ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے 2017 کے ایک متنازع دعوے کی حمایت کی تھی کہ برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی GCHQ نے اوباما انتظامیہ کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جاسوسی میں مدد دی تھی۔یہ ایک ایسا دعویٰ تھا جسے امریکی اور برطانوی حکام نے مسترد کر دیا تھا اور برطانوی ایجنسی نے اسے مکمل طور پر مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

 

جانسن پراس سے قبل مشیل اوباما کے بارے میں بھی یہ افواہ پھیلانے کا الزام لگا کہ انہوں نے سفید فام لوگوں کے خلاف نسلی پرستانہ تقریر کی۔ وہ روسی سرکاری میڈیا پر بھی نمودار ہوتے رہے ہیں، جہاں ان کے تبصروں کو کریملن نواز بیانیے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ٹیگز: