امریکی فوج میں تبدیلیوں کا طوفان۔ ریورس رجیم چینج

ایران میں حکومت بدلنے کے دعووں کے ساتھ خود امریکہ میں غیر معمولی اکھاڑپچھاڑ

               
April 23, 2026 · امت خاص

تصویر: وکی پیڈیا

امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ پالیسیوں اور جنگی ماحول کے دوران ایک اور بڑی کہانی خود امریکہ کے اندر سامنے آئی ہے، جسے بعض حلقے “ریورس رجیم چینج” قرار دے رہے ہیں۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت کو تبدیل کرنے بات کی اور دعویٰ کیا کہ وہاں نظام بدل دیا گیالیکن اس کے ساتھ ساتھ خود امریکہ کی فوجی قیادت میں غیر معمولی اکھاڑ پچھاڑ دیکھنے میں آئی۔

 

امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان فیلن، جو نیوی اور میرین کور کے انتظامی، بجٹ اور پالیسی معاملات کے سربراہ ہوتے ہیں۔ وہ عہدہ چھوڑ گئے۔ بری فوج کے اعلیٰ ترین پیشہ ور کمانڈر، امریکی آرمی کے چیف آف اسٹاف جنرل جارج رینڈی کو بھی عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل برائون چارلس امریکی مسلح افواج کے سب سے سینئر فوجی افسر سمجھے جاتے ہیں، انہیں بھی برطرف کیا گیا۔

 

چیف آف نیول آپریشنزایڈمرل لیزا فرانچیٹی، بحریہ کی اعلیٰ ترین وردی میں ملبوس افسر،اس عہدے پر پہلی خاتون بھی تبدیلیوں کے اس طوفان کی زدمیں آئی۔ سینئر آرمی کمانڈر جنرل ڈیوڈ ہدنے ٹریننگ اور آپریشنل معاملات سے وابستہ رہے، جنرل ولیم گرین آرمی کے چیف آف چیپلنز تھے، یعنی فوج میں مذہبی امور کے سربراہ۔دونوں کو ہٹا دیا گیا۔

 

جیفرے کروز،ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر تھے، جو فوجی انٹیلی جنس کا ایک اہم عہدہ ہے، اور انہیں اس انٹیلی جنس رپورٹ کے بعد عہدے سے ہٹایا گیاجس نے گذشتہ سال امریکی حملوں میں ایرانی جوہری صلاحیت کی تباہی کا دعویٰ غلط ثابت کیا۔

 

رپورٹس کے مطابق ایک درجن سے زائد سینئر افسران اس عمل سے متاثر ہوئے، درجنوں دیگر کی پروموشنز روک دی گئیں یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔ بعض امریکی عہدیداروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان فیصلوں سے فوج کے پیشہ ورانہ ڈھانچے اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اسی پس منظر میں یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ جہاں ایک طرف بیرونی سطح پر تبدیلی کی بات کی جا رہی ہے، وہیں اندرونی طور پر امریکی فوجی قیادت میں بھی بڑی سطح پر تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں—جسے بعض تجزیہ کار “ریورس رجیم چینج” قرار دے رہے ہیں۔