امتیازی سلوک جاری رہا تو مصالحت ختم کردیں گے ، سہیل آفریدی
عمران خان کا ہمیشہ مؤقف رہا کہ ملٹری آپریشنز اور جنگیں مسائل کا حل نہیں،کابینہ اجلاس سے خطاب
فائل فوٹو
پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو پھر ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے۔
کابینہ اجلاس کے دوران ملکی و صوبائی امور پر اہم گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں۔عمران خان کا ہمیشہ مؤقف رہا کہ ملٹری آپریشنز اور جنگیں مسائل کا حل نہیں، ہمیشہ مذاکرات اور امن کو ترجیح دی گئی، عمران خان نے 9 اپریل کا جلسہ پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ملتوی کیا اور ہم نے سیاسی مفادات قربان کر کے قومی مفاد کو مقدم رکھا اور ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سیاسی کیپیٹل داؤ پر لگا کر ملکی مفاد میں وفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، قابض اور مسلط شدہ حکمران صرف اپنی انا کی تسکین اور ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں، جعلی اور نا اہل حکمران قومی مفاد کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے خلاف سیاسی امتیاز، کارکنوں پر لاٹھی چارج، شیلنگ اور چادر و چار دیواری کی پامالی مسلسل جاری ہے، عمران خان کی بہنوں کے ساتھ بدسلوکی، دھکے اور تشدد کے واقعات ریاستی جبر کی بدترین مثال ہیں، بشریٰ بی بی کی تشویش ناک صحت کے باوجود ذاتی ڈاکٹروں اور اہل خانہ سے ملاقات نہیں کروانا بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
وزیراعلیٰ نے عمران خان کے مقدمات کی سماعت نہ ہونے اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہم ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے۔موجودہ رویہ برقرار رہا تو وفاق کے ساتھ عدم تعاون کیا جائے گا اور بائیکاٹ کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔
انھوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026 اور 2027 کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے، منصوبوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ترقیاتی مںصوبوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تمام محکمے اے ڈی پی کی تیاری میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں، جامع اور مؤثر منصوبہ بندی یقینی بنائیں۔
صوبے کے عوام سے انہوں نے کہا کہ 4 مئی سے 8 مئی تک عوامی فیڈبیک کے لیے پورٹل کھلا رہے گا، عوام بھرپور شرکت کریں کیونکہ عوامی تجاویز کو سالانہ ترقیاتی پروگرام 27-2026 میں شامل کر کے مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔