ایرانی ریال کی قیمت اوپر جائے گی یا نہیں، صدر ایکسچینج ایسوسی ایشن کے اہم انکشافات
کاروبار میں ہر چیز اپنی اصل قیمت کی طرف واپس آتی ہے،ظفر پراچہ
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے صدر ظفر پراچہ نے ایرانی ریال کی خرید و فروخت کے حوالے سے کہا ہے کہ جنگی حالات، معاشی بحران، مہنگائی، سیاسی افراتفری، قدرتی آفت یا کووڈ جیسے حالات میں مختلف اثرات مختلف چیزوں پر پڑتے ہیں۔ سونا، چاندی، تیل، اجناس، پراپرٹی یا اسٹاک مارکیٹ ، رسک لینے والے لوگ ہر دفعہ کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔
یہ کہنا کہ ایرانی ریال خریدیں یا نہ خریدیں، دانشمندی ہے یا بیوقوفی، میرے لیے مشکل ہے کیونکہ میں خود اس کاروبار کا فریق اور فائدہ اٹھانے والا ہوں۔
“امت ڈیجیٹل ” کو خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر میں خریدنے کا مشورہ دوں تو مجھے فائدہ ہوگا، لیکن اگر نقصان ہوا تو لوگ مجھ پر الزام لگائیں گے کہ غلط مشورہ دیا گیا
انہوں نے ایرانی ریال کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شاہ ایران کے زمانے میں ایک ڈالر میں تین سے چار ریال آتے تھے۔ انقلاب کے بعد ایک ڈالر 70 ریال ہو گیا۔ 2015 میں ایک کروڑ ریال 5000 پاکستانی روپے کے برابر تھا۔ جنگ کے دوران یہ 2500 روپے تک گر گیا، پھر 5000 ہوا۔ مذاکرات کی افواہ پر 15000 تک پہنچا اور اب تقریباً 6 سے 8 ہزار روپے فی کروڑ ریال ہے۔
ظفر پراچہ کے مطابق کاروبار میں ہر چیز اپنی اصل قیمت کی طرف واپس آتی ہے، چاہے 10 یا 20 سال لگ جائیں۔ ریال خریدنا خریدار کی اپنی صوابدید ہے۔ اسے حقائق، زمینی حالات اور جغرافیائی سیاست کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
ظفر پراچہ نے ایران کی استقامت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران 47 سال سے پابندیوں اور تنہائی کا شکار ہے، لیکن اس کے باوجود ایک پیسے کا قرضہ نہیں ۔ اگر پابندیاں ختم ہوئیں تو ایران بہت تیزی سے ترقی کرے گا کیونکہ اس پر کوئی قرضہ نہیں بلکہ اربوں ڈالر وصول کرنے ہیں۔
ظفر پراچہ نے بتایا کہ جن لوگوں نے سستا ریال خریدا اور مہنگا بیچا، انہوں نے پانچ گنا منافع کمایا، مہنگا خریدنے والے نقصان اٹھا رہے ہیں۔ یہ سب ہولڈنگ کی بات ہے۔ پاکستان نے افغانستان کو بائی پاس کر کے ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کو شپمنٹ بھیجی ہے، جو غیر اعلانیہ طور پر پابندیوں میں نرمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنا تیل چینی یوآن میں بیچا ہے جس سے اس کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ فی الحال ریال کی قیمت دبائی گئی ہے، دباؤ ہٹتے ہی قیمت اوپر جائے گی۔
پاکستان میں ریال کی مقبولیت کی تین بڑی وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا: سرحدی تجارت ریال میں ہوتی ہے، بلوچ عوام کا ایران آنا جانا ہے، اور زیارات کے لیے جانے والے لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ بلوچستان میں ایران سے تیل، اسٹیل اور دیگر اشیاء آتی ہیں جس کی وجہ سے ریال کی لین دین بہت زیادہ ہے۔
ظفر پراچہ نے لوگوں کو سٹے بازی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کویت، عراق اور افغانستان کی کرنسیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ حالات ٹھیک ہوتے ہی کرنسی دوبارہ بحال ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکسچینج ہاؤسز میں ریال کی قانونی خرید و فروخت ہو رہی ہے، لیکن 80-85 فیصد کام پرائیویٹ اور غیر قانونی طور پر ہو رہا ہے جہاں ایف آئی اے کارروائیاں بھی کر رہی ہے۔ ہر مارکیٹ میں چھوٹے بڑے ملازمین ریال ٹریڈنگ میں لگے ہوئے ہیں۔ اس میں قیمت گرنے پر لوگ پھنس سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک “ریلی” اور “ٹرینڈ” ہے جس سے لوگ فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور نقصان بھی۔ اصل چیز انسانی جذبات ہیں۔ اللہ نے انسان میں یہ فطرت رکھی ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے۔
ظفر پراچہ نے واضح کیا کہ وہ خود اس کاروبار میں ہیں، اس لیے کسی کو مخصوص طور پر ریال خریدنے کا مشورہ نہیں دے سکتے تاکہ مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار مختلف مزاج کے ہوتے ہیں۔ کچھ تھوڑا منافع لے کر نکل جاتے ہیں، کچھ نقصان پر بیچ دیتے ہیں اور کچھ لمبے عرصے تک انتظار کرتے ہیں۔ زیادہ رسک کا مطلب زیادہ منافع یا زیادہ نقصان ہے۔
ان کا آخری مشورہ یہ تھا کہ سب سے محفوظ سرمایہ کاری پاکستان میں ہے جیسے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ۔ اسلام پیسے کو حرکت میں رکھنے اور کاروبار کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے۔ پاکستان میں لوگ فیکٹریاں بند کر کے پلاٹ خرید لیتے ہیں جو ڈیڈ انویسٹمنٹ ہے اور صنعت و تعلیم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔