عالمی میڈیا پرایران اورامریکہ تنازع کے لیے’منجمد’کی اصطلاح کا استعمال
حالات کا رخ بتاتاہے واشنگٹن کو خطے میں اپنے فوجی دستے کئی مہینوں تک مستعد رکھنے پڑیں گے
ایران اور امریکہ میں تنازع نئی سرد جنگ میں تبدیل ہورہاہے،حالات کے اس طرف بڑھنے کے تمام اشارے واضح ہیں۔ امریکی میڈیانے صدارتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر کا فیصلہ اس وقت دو راہے پر ہے کہ آیا نئے فوجی حملے کیے جائیں یا پھر انتظار کیا جائے کہ ان کی جانب سے لگائی گئی مالی و اقتصادی پابندیاں اور زیادہ سے زیادہ دبا ئوکی پالیسی تہران کو جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔
امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق،ایران کا تنازع اب ایک سرد جنگ جیسی صورتحال میں داخل ہو چکا ہے، جس میں مالیاتی پابندیاں، بحری جہازوں کی روک تھام اور بات چیت کے بارے میں بات چیت شامل ہے۔یہ کشیدہ تعطل فی الحال ختم ہونے والا نہیں۔ اس لیے توانائی کی قیمتیں اگلے کئی مہینوں تک بلند رہنے والی ہیں اور کسی بھی لمحے گرم جنگ چھڑ سکتی ہے۔”ایگزیوس” کو کئی امریکی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ وہ اس بات سے فکرمند ہیں کہ امریکہ ایک ایسے منجمد تنازع میں پھنس جائے جس میں نہ جنگ ہو اور نہ کوئی معاہدہ۔
معروضی حالات میں، امریکہ کو خطے میں اپنے فوجی دستے کئی مہینوں تک مستعد رکھنے پڑیں گے۔ ہرمز کی آبنائے بند رہے گی، امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی، اور دونوں فریق ایک دوسرے کے ہارماننے یا پہلے فائر کرنے کا انتظار کرتے رہیں گے، تاہم،ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ایران کے رہنما پرامید ہیں کہ پچھلی کئی دہائیوں کی پابندیوں کے دوران جو معاشی خودمختاری(خود کفالت)انہوں نے حاصل کی تھی، وہ انہیں ٹرمپ سے زیادہ دیر تک یہ معاشی تکلیف برداشت کرنے میں مدد دے گی۔
ادھر امریکہ کے مڈ ٹرم الیکشنزمیں اب صرف چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں، اس لیے ایک منجمد تنازع ٹرمپ کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر سب سے بدترین چیز ہے۔ٹرمپ نے حال ہی میں ایک مشیر سے کہاکہ ان سب(ایرانی رہنمائوں)کو صرف بموں کی زبان سمجھ آتی ہے۔اس مشیر نے کہاکہ میں انہیں مایوس مگر حقیقت پسندانہ کہوں گا۔ وہ طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتے، لیکن وہ پیچھے بھی نہیں ہٹ رہے۔
مزید پڑھیں: مذاکرات بغیر نتیجے کے ختم اورغیرمعینہ فائربندی :کیا ایران جنگ”ڈرا”ہوگئی؟
برطانوی میڈیانے کہاہے کہ 2003میں عراق جنگ کے بعد سے خطے میں امریکی فوج کی سب سے بڑی موجودگی کے باوجود، ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازعے کا کوئی فوری حل ممکن نہیں ۔صدر ٹرمپ اور دفاعی سیکریٹری پیٹ ہیگسیتھ نے 28فروری کو” آپریشن اپیک فیوری ”کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے ابتدائی ٹائم لائن چار سے پانچ ہفتے بتائی تھی۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ دیر تک جاری رکھنے کی صلاحیت ہے، ہیگسیتھ نے عوام کو یقین دلایا تھا کہ یہ تنازع عراق جیسا نہیںہو گا، جو تقریبا نو سال تک چلا تھا۔نومبر میںمڈ ٹرم انتخابات ہیں اور ایران کی جنگ امریکی عوام میں بہت غیر مقبول ثابت ہو رہی ہے، اس لیے کئی امریکی عہدیداروں کو فکر ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق صدرٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ مہنگائی ہے، جو ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے مزید بڑھ گئی ہے۔اسی لیے صدر پر شدید دبا ئوہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے کوئی ایسا حل نکالیں جس سے ان کی ساکھ برقرار رہے۔ چاہے اس میں کانگریس کا کردار جو بھی ہو۔
امریکی صدارتی انتظامیہ کا طرزگفتار ، تنازع کو ‘ منجمد’ کہنے کے اسباب واضح کرتاہے۔ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو نے فاکس نیوز کے انٹرویو میں کہاتھاکہ ایران پر پابندیوں کی سطح غیر معمولی ہے، ایران پر دبائو غیر معمولی ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ مزید دبائو ڈالا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ باقی دنیا ہمارے ساتھ مل کر ان تباہ کن پابندیوں اور دیگر اقدامات میں شامل ہو گی جو ہم اس حکومت پر ڈال رہے ہیں تاکہ وہ ایسی مراعات دے جو وہ نہیں دینا چاہتی۔
ایک سینئر انتظامی عہدیدار نے کہا کہ ہر طرف اور ہر زاویے سے دبائو موجود ہے۔ اس کا مطلب فوجی کارروائی بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نہ ہو۔ فیصلہ صدر کے پاس ہے۔
اگر یکم مئی کو کانگریس نے ایران کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کی منظوری نہ دی تویہ سردجنگ کی باضابطہ ابتدابن سکتی ہے۔