بدنام اخلاقی مجرم ایپسٹن کے نجی جزیرے پر مسجد سے مشابہہ عمارت کا انکشاف
نیلی اور سفید دھاریوں والی تعمیر کے اوپر سنہرا گنبد تھا۔ دستاویزات
تصویر: امریکی کانگریس
امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ نئی دستاویزات میں انکشاف ہواہے کہ بدنام اخلاقی مجرم، جیفری ایپسٹین نے مشرق وسطیٰ میں اپنے تعلقات کو کاروباری مواقع اور نایاب اسلامی نوادرات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا، تاکہ وہ اپنے نجی جزیرے پر موجود ایک عمارت کو سجا سکے جسے وہ ”مسجد”کہتا تھا۔”نیویارک ٹائمز ”کے مطابق ستاویزات میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اس بدنام زمانہ فنانسر اور جنسی مجرم نے غلاف کعبہ جیسے کپڑے کے ٹکڑے ، ازبکستان سے اسلامی طرزتعمیر کی ٹائلیں اور شام کی تاریخی عمارتوں کی طرز پر بنے تعمیراتی ڈیزائن حاصل کیے تھے۔اس نے اپنے دولت مند اور بااثر رابطوں کے نیٹ ورک کو اپنے کاروباری عزائم اور نوادرات کے مجموعے کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا۔
یہ ریکارڈز ایپسٹین کے نجی جزیرے ”ٹل سینٹ جیمز”پر موجود نیلی اور سفید دھاریوں والی ایک عمارت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں جس کے اوپر سنہرا گنبد ہے۔ اس عمارت کو ایک پویلین، چیپل یا میوزک روم کہا جاتا رہا ہے، لیکن خط و کتابت اور انٹرویوز سے پتہ چلتا ہے کہ ایپسٹین اسے ایک مسجد سے مشابہت دیتا تھا۔
اخبار کے مطابق ،ایپسٹین، یہودی تھالیکن وہ اسلامی ڈیزائن میں دلچسپی رکھتا تھا۔ 2003میں اس نے وینٹی فیئر کو بتایا تھا کہ اس کے پاس ایک بڑا ایرانی قالین ہے جس کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ کسی مسجد سے آیا ہوگا۔ 2008میں فلوریڈا کی ایک جیل میں سزا کاٹتے ہوئے اس نے مشرق وسطی کے فن تعمیر سے متاثر ہو کر ایک عمارت کا ڈھانچہ بنانے کی منصوبہ بندی شروع کی۔ ابتدائی منصوبوں میں اسلامی باغات سے گھرا ہوا ترک طرز کا حمام شامل تھا۔ بعد میں اس نے اسے ‘میوزک روم’ کے نام سے ڈیزائن کرنا شروع کیا، جس کے لیے اس نے تاریخی مساجد کی تصاویر سے ترغیب لی۔
2011 کی ایک ای میل میں اس نے ازبکستان سے ٹائلیں منگوائیں اور لکھا کہ یہ اندرونی دیواروں کے لیے ”مسجد کی طرح”استعمال ہوں گی۔ اس منصوبے پر کام کرنے والے رومانیہ کے ماہر آئیون نکولا نے بتایا کہ ایپسٹین مستقل طور پر اس عمارت کو اپنی مسجدکہہ کر پکارتا تھا۔ اس نے حلب، شام کے 15ویں صدی کے ایک حمام پر مبنی ڈیزائن کی بھی درخواست کی تھی اور ایک موقع پر تجویز دی تھی کہ آرائشی عناصر میں عربی تحریر کی جگہ اس کے اپنے نام کے حروف (initials)لگا دیے جائیں۔
2010 کے لگ بھگ ایپسٹین نے نارویجن سفارت کار ٹیرجے روڈ لارسن کے ساتھ تعلقات استوار کیے، جس نے اسے اہم عرب شخصیات سے ملوانے میں مدد کی۔ ۔اسی دوران ایپسٹین کے ساتھیوں نے جزیرے کی”مسجد” سے مشابہہ عمارت کے لیے سامان کا انتظام کیا۔
2017 میں سمندری طوفان نے اس ڈھانچے کے اندر موجود اشیا کو نقصان پہنچایا۔