راولپنڈی: پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوششیں ناکام، 13 خارجی جہنم واصل
افغان طالبان کی عبوری حکومت اپنی سرزمین پر موثر بارڈر مینجمنٹ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ، ترجمان پاک فوج
فائل فوٹو
راولپنڈی: پاک افغان سرحد پر سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی دراندازی کی دو بڑی کوششیں ناکام بناتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ آپریشنز صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع مہمند اور شمالی وزیرستان میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جو سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ فورسز کی جانب سے موثر اور مہارت سے کی گئی کارروائی کے نتیجے میں 8 خارجی ہلاک ہوئے جن کا تعلق بھارت کے زیرِ سرپرستی چلنے والے “فتنہ الخوارج” سے تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایک اور جھڑپ شمالی وزیرستان میں ہوئی جہاں خوارج کے ایک گروہ نے سرحد پار سے دراندازی کی کوشش کی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سیکورٹی فورسز نے 5 خارجیوں کو ٹھکانے لگا دیا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ایک بار پھر پاکستان کے اس موقف کی تائید کرتے ہیں کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت اپنی سرزمین پر موثر بارڈر مینجمنٹ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے، ساتھ ہی اپنے شہریوں کی پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں شمولیت کا سدِباب کرے۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ علاقے میں کسی بھی ممکنہ خارجی کی موجودگی کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق وفاقی ایپکس کمیٹی کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن “عزمِ استحکام” کے مطابق غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔