ٹرمپ کاجوا:ایران پر فیصلہ کن فتح کاگمان پوری دنیا کے لیے پھیلتی ہوئی دلدل میں تبدیل

آبنائے ہرمز بند کرنے سے عراق، قطر اور کویت کی معیشتوں پر تباہ کن اثر پڑا ،سی این این

               
  May 2, 2026 · امت خاص

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب ایران کے خلاف جنگ شروع کی تو انہوں نے فوری اور فیصلہ کن فتح کا وعدہ کیا تھا۔امریکہ کے نشریاتی ادارے نے تجزیہ میں لکھاہے کہ جنگ کے صرف دس دن بعد انہوں نے کہا کہ ریاستہائے متحدہ نے بہت سے اعتبار سے جنگ پہلے ہی جیت لی ہے۔

دو ماہ گزر جانے کے بعد لڑائی معطل کر دی گئی، لیکن جنگ کا کوئی حتمی خاتمہ کہیں نظر نہیں آ رہا۔ واشنگٹن کو واضح حکمت عملی کے فوائد حاصل نہیں ہوئے، محدود جنگ سمجھی جانے والی جھڑپ اب پوری دنیا کو ایک پھیلتی ہوئی دلدل میں کھینچ رہی ہے اور شائد ہی کوئی فاتح نکلے۔

یہ ہمیشہ عام لوگ ہی ہوتے ہیں جو کسی بھی تنازع میں دنیا کے کسی بھی حصے میں سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں اور ایران میں یہ بات سب سے زیادہ سچ ہے۔ایرانی عوام باہر سے اور اندر سے دونوں طرف سے تشدد کا شکار ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں ہزاروں اہداف پر حملے کیے جن میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بھی شامل ہیںان کے نتیجے میں3600سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں1700سے زیادہ عام شہری شامل ہیں

ٹرمپ نے یہاں تک دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کے حکمران ان کے مطالبات کے سامنے سر نہ جھکائیں تو وہ ایران کی پوری تہذیب کو تباہ کر دیں گے۔

ایرانی رجیم نے اختلاف رائے کو کچلنے کے لیے سخت کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنائی کی قیادت میں نئی قیادت پرانی سے بھی زیادہ سخت نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی چیلنج کرنے والے کو واضح پیغام دینے کے لیے بے تاب ہے۔

حقوق کے گروپس کے مطابق، سال کے آغاز سے اب تک ایرانی حکومت نے 600 سے زائد افراد کو پھانسی دے دی ہے، دسمبر کے آخر اور جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ایرانی عوام پر آٹھ ہفتوں سے زیادہ عرصے سے حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے۔

ایرانی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگا ہے، جس کے نتیجے میں نوکریاں چھن رہی ہیں اور غربت بڑھ رہی ہے۔

لبنانی عوام دہائیوں سے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فروری تک ایک نازک سیز فائر قائم تھا، جب اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پرحملے کیے۔اسرائیل نے جواب میں شدید فضائی حملوں اور گہری زمینی کارروائی کا سلسلہ شروع کر دیا جس کا مقصد حزب اللہ کو تباہ کرنا تھا۔ لبنانی ہیلتھ منسٹری کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں2500سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں وہی حکمت عملی اپنائی ہے جو پہلے غزہ میں استعمال کی تھی، یعنی پوری بستیوں کومسمار کرنا۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان سے بے گھر ہونے والے6لاکھ لوگوں کو واپس نہیں آنے دیا جائے گا جب تک حزب اللہ شمالی اسرائیل کے لیے خطرہ نہ رہے۔

خلیج کے ممالک ایک ایسی جنگ سے شدید متاثر ہوئے ہیں جسے وہ نہیں چاہتے تھے اور جسے روکنے کی پوری کوشش کرتے رہے۔متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ،ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کا سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ زیادہ تر کو روک لیا گیا، مگر نقصان ہو چکا ہے اور یواے ای کا علاقائی کاروبار اور ٹورزم کا مرکز ہونے کا درجہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بند کرنے سے عراق، قطر اور کویت کی معیشتوں پر تباہ کن اثر پڑا ہے کیونکہ یہ ممالک اپنے تیل، قدرتی گیس اور دیگر برآمدات کے لیے اس تنگ سمندری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے ان ممالک کی معاشی ترقی کی پیش گوئیوں میں بڑی کمی کر دی ہے اوخدشہ ہے کہ عراق، قطر اور کویت کی معیشتیں اس سال سکڑ جائیں گی۔

امریکی عوام اور ان کی جیبوں پر بھی یہ جنگ بھاری پڑ رہی ہے۔ وہ پہلے ہی پٹرول اور ہوائی ٹکٹوں کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ ساتھ کچھ خدمات پر اضافی فیول سرچارج ادا کر رہے ہیں۔ مارچ میں سالانہ مہنگائی 3.3 فیصد ہو گئی، جو فروری میں2اعشارہ 4فیصد تھی۔ صارفین کا اعتماد تیزی سے گر رہا ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی میلانی سِسن کے مطابق اسے نرم الفاظ میں کہنے کا کوئی طریقہ نہیں،حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی موجودہ صورتحال اچھی نہیں۔امریکی معیشت لوگوں اور سامان کی نقل و حمل کے لیے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے اور قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) میں کم سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

دنیا بھر کے صارفین جنگ کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ صورتحال ایشیا میں خاص طور پر بری ہے جہاں بہت سے ممالک تیل اور پٹرو کیمیکلز کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ لاطینی امریکہ کے لوگ توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں سے نمٹنے میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ افریقہ میں معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اور یورپی سینٹرل بینک نے بڑے دھچکے کی وارننگ جاری کی ہے۔

جنگ سے پہلے عالمی مہنگائی اس سال3اعشاریہ 8 فیصد رہنے کی توقع تھی، اب آئی ایم یاف نے اسے 4.4 فیصد کر دیا ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے اس ماہ کے شروع میں عالمی معاشی ترقی کی پیش گوئی بھی کم کر دی ہے اور اب توقع ہے کہ عالمی معیشت اس سال3اعشاریہ1فیصد بڑھے گی۔جنوری میں 3.3 فیصد کی پیش گوئی کی گئی تھی۔فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ غریب ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

ٹرمپ نے ایک بڑا جوا کھیلا تھاجو ابھی تک رنگ نہیں لایا۔ انہوں نے ایرانی جوہری اور میزائل خطرات کا خاتمہ کرنے اور ممکنہ طور پر رجیم کو تبدیل کرنے کی جنگ کا وعدہ کیا تھا۔ مگر یہ اہداف ابھی حاصل نہیں ہوئے اور تنازع کا خاتمہ دور نظر آتا ہے۔

امریکہ میں جنگ شروع سے ہی غیر مقبول تھی۔ جتنا زیادہ وقت گزر رہا ہے، ٹرمپ کے لیے پولنگ اتنی ہی خراب ہو رہی ہے۔ حالیہ پولز کی اوسط کے مطابق صدر کی مقبولیت کی شرح صرف 37 فیصد رہ گئی ہے۔

گیس کی قیمتیں پہلے ہی بری ہیں اور بدتر ہو رہی ہیں، جو سیاسی طورپر ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نقصان دہ ہے۔ اور سفارتی طور پر ٹرمپ کمزور نظر آ رہے ہیں۔ وہ اب یہ سمجھتے ہیں کہ لڑائی دوبارہ شروع کرنے سے امریکہ کو بہت زیادہ نقصان ہوگا اور یہ ان کے مطلوبہ نتائج پیدا کرنے کا امکان نہیں رکھتا۔

ٹرمپ صرف تب فاتح بن سکتے ہیں اگر ایران مجبور ہو کر امریکہ کے زیادہ سے زیادہ مطالبات مان لے۔ کم از کم قریبی مدت میں یہ ممکن نظر نہیں آتا۔

چند سال پہلے ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تصادم کا خیال ناقابلِ تصور تھا ،خاص طور پر اس لیے کہ دنیا کا بیشتر حصہ، اور خاص طور پر امریکہ، اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیٹن یاہو ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ ایران پر مشترکہ امریکہ،اسرائیل حملہ ہی رجیم اور اس کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔ یہ وزیر اعظم کے لیے حکمت عملی کے اعتبار سے ابتدائی جیت تھی۔ پچھلے ہفتے نیٹن یاہو نے ایک بار پھر اپنا عزم دہرایا کہ وہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل دیں گے اور وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

اس حقیقت نے کہ فوجی کارروائی نے ایران کی فوجی طاقت کو بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے، نیتن یاہو کو اسرائیل میں انتخابات کے سال میں بڑا حوصلہ دیا ہے۔اسی دوران متعدد پولز سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر یہودی اسرائیلی ایران کے ساتھ جنگ کی حمایت کرتے ہیں، مگر وہ یہ نہیں مانتے کہ امریکہ اور اسرائیل جیت رہے ہیں۔ اس جنگ نے غزہ کی تباہ کن جنگ کی وجہ سے پہلے ہی متاثر اسرائیل کی امریکہ میں ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔

اسرائیل کے شمالی علاقوں میں سیکیورٹی کے خدشات بھی ہیں جہاں حزب اللہ کے راکٹس اور ڈرونز کا خطرہ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔

ایرانی رجیم نے اس تنازع میں نقصان اٹھا یاہے، متعدد اعلیٰ حکام سمیت طویل عرصے سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔مگر رجیم اب بھی قائم ہے اور اس کی نئی قیادت پرانی سے زیادہ انتہا پسند اور تصادم کے لیے زیادہ تیار نظر آتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ رجیم نے آبنائے ہرمز بند کر کے عالمی تباہی مچانے کی صلاحیت دکھا کر نئی سفارتی قوت حاصل کر لی ہے۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (CSIS) کی مشرق وسطیٰ پروگرام کی ڈائریکٹر مونا یعقوبیان کا کہناہے کہ انہوں نے جوا کھیلا اور اس خطرناک اقدام کے نتیجے میں انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ان کا فیکٹو کنٹرول ہے، جو آگے چل کر خطے اور عالمی معیشت کے لیے اہم اثرات رکھتا ہے۔

اس جنگ نے مستقبل قریب میں یوکرین کے لیے بہت بری خبر ثابت ہوئی ہے۔ کلیدی ہتھیاروں کی ترسیلات متاثر ہوئی ہیں۔