آئینی عدالت نے انکم ٹیکس قانون کاسیکشن 7 ای کالعدم قرار دے دیا

فیصلے سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا

May 7, 2026 · کامرس

 

وفاقی آئینی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے انکم ٹیکس قانون کے سیکشن 7E کو کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے اس قانون کے تحت کیے گئے تمام اقدامات بھی کالعدم قرار دے دیے۔

آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے مختصر فیصلہ عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

سیکشن 7E کے تحت ایسے پلاٹس پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا تھا جو زیرِ استعمال نہیں تھے، جس پر معاملہ مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کیا گیا تھا۔ پشاور، اور بلوچستان ہائی کورٹس نے سیکشن 7E کو پہلے ہی کالعدم قرار دیا تھا ، اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹس نے اسے درست قرار دیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف دائر شہریوں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سیکشن 7E کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ 30 اپریل کو محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا۔ اس فیصلے سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے متعارف کرائی گئی سیکشن 7-E نے ریئل اسٹیٹ پر “فرضی آمدنی” (Deemed Income) کا متنازع ٹیکس لگایا تھا۔ اگر ایک سے زیادہ پراپرٹی بالکل خالی پڑی ہوئی تھی اور اس سے کوئی کرایہ بھی نہیں مل رہا تھا،پھربھی قانون یہ فرض کرتا تھا کہ اس پراپرٹی سے 5 فیصد آمدنی ہو رہی ہے (اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے) اور اس خیالی آمدنی پر وفاقی ٹیکس لگادیا جاتاتھا۔