بنوں حملے پر پاکستان میں افغان ناظم الامور کی طلبی، احتجاجی مراسلہ حوالے
بنوں پولیس چوکی حملے کے بعد پاکستان نے افغان طالبان کو سخت وارننگ دی
پاکستان نے پیر کے روز افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے بنوں میں پولیس چوکی پر فتنہ الخوارج کے گاڑی میں نصب بارودی مواد کے حملے پر سخت احتجاجی مراسلہ دیا، جس میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق واقعے کی تفصیلی تحقیقات، شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس سے یہ بات سامنے آئی کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے کی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغان سرزمین کے مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور افغان حکام کو واضح کیا کہ پاکستان اس “بربریت پر مبنی حملے” کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ افغان سرزمین سے سرگرم مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کے لیے سازگار ماحول سے متعلق حقائق اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی درج ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مشترکہ مقصد ہے اور افغان طالبان کو اپنے اس وعدے کی پاسداری کرنا ہوگی کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان متعدد بار افغان طالبان حکومت پر زور دے چکا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے سرگرم فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور داعش/آئی ایس کے پی عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے دوست اور برادر ممالک کی ثالثی میں افغان طالبان حکومت کے ساتھ کئی ادوار کی بات چیت بھی کی، تاہم افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بامعنی اور قابل تصدیق اقدامات کی یقین دہانی یا عملدرآمد میں مسلسل ناکام رہے۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ افغان طالبان حکومت کو دو ٹوک انداز میں آگاہ کردیا گیا ہے کہ اگر وہ ان دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی رہی تو پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔