میاں محمد بخشؒ اور بڑھاپا

میاں محمد بخشؒ کا پیغام نہایت واضح ہے وہ کیا ہے جانیے ڈاکٹر ظفر اقبال کے اس مضمون میں

May 13, 2026 · کالم

ڈاکٹر ظفر اقبال

میاں محمد بخش انیسویں صدی کے ایک عظیم صوفی شاعر گزرے۔
آپ نے زندگی کے حقائق اور بندے کے اس عارضی دنیا میں مقام، خالق اور بندے کے درمیان تعلق، مخلوق سے تعلق اور کائنات سے تعلق کے حوالے سے جو اصل مطلوب رویے ہیں، انہی پر گفتگو مرکوز رکھی جو دراصل اصل علم نافع یا معرفت اور حقیقت کا ادراک ہے اور خالق و ذات کی معرفت۔ تمام عارفوں نے یہی حقیقت بیان کی کہ انہی پر بندے کی نجات/کامیابی کا انحصار ہے۔ ان کا اس عارضی دنیا کے بارے میں دلچسپ پیرائے میں ایک رباعی ہے:

گئی جوانی آیا بڑھاپا جاگ پیاں سب پیڑاں
ہن کس کم محمد بخشا، سونف، جوائن، ہریڑاں

کوئی آکھے پِیڑ لکے دی، کوئی آکھے چُک
وچلی گل اے محمد بخشا وچوں گئی اے مُک

میاں محمد بخشؒ

پہلی بات تو یہ ہے کہ میاں صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے شعر اتنے سچے اور مبنی بر حقیقت ہوتے ہیں کہ ہر دل کی آواز محسوس ہوتے ہیں۔
ان اشعار میں میاں صاحب فرماتے ہیں کہ جوں جوں بندہ حیاتی کی سیڑھیاں چڑھتا جاتا ہے، توں توں اس کے اندر کے درد اور تکلیفیں جاگنے لگتی ہیں اور بڑھتی جاتی ہیں، جنہیں کبھی اس نام اور کبھی اس نام سے پکارا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آخری مصرعے (وچلی گل اے محمد بخشا، وچوں گئی سے مک) کی سمجھ کوئی اس وقت تک نہیں آتی، جب تک بندہ زندگی کے اس درد والے حصے میں نہ پہنچ جائے۔ اسے عین جوانی میں سمجھنا یا سمجھانا مشکل ہے۔ اس مصرعہ میں تکرار لفظی “وچلی گل” اور “وچوں گئی اے مک” کا استعمال بہت خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔
انسان کا وقت پورا ہو جاتا ہے اور ہم اسے نام دیتے رہتے ہیں کہ یہ بیماری ہے اور یہ درد، یا یہ کہ ساری عمر زندگی کی گھمن گھیروں کے بعد بندہ اندر سے ختم ہو جاتا ہے – نہ درد کا نام رہتا ہے، نہ درد کا۔
میاں صاحب نے “جاگن” کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ پیڑیں (درد) بندے کے اندر ہوتی ہیں پر سوئی رہتی ہیں۔ باقی دنیا کی ہر چیز کو گلنا، سڑنا اور ختم ہونا ہوتا ہے، کسی کو دیمک لگتی ہے، کسی کو زنگ اور کسی کو پانی گلا دیتا ہے اور کوئی دھوپ میں سڑ جاتی ہے۔
ان اشعار میں میاں صاحب نے بڑھاپے کی اس کیفیت کو بیان کیا ہے جب جسم کے کونے کونے میں چھپی ہوئی تکلیفیں – جو جوانی میں سوئی ہوئی تھیں – آہستہ آہستہ جاگنے لگتی ہیں۔ ان تکالیف کو بندہ کبھی “لکے دی پیڑ” (کمر کا درد) کہتا ہے، کبھی “چک” سے تعبیر کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بڑھاپے میں وہ سب درد یکبارگی موجود ہو جاتے ہیں۔
میاں محمد بخشؒ نے خوب صورت لفظ “جاگن” استعمال کیا ہے۔ ان کا اشارہ ہے کہ پیڑیں انسان کے اندر موجود تو ہوتی ہیں، مگر جوانی کی مصروفیتوں، خواہشوں اور غفلت کی وجہ سے سوئی رہتی ہیں۔ جب بڑھاپا آتا ہے اور جسمانی قوتیں زائل ہوتی ہیں، تو یہی پیڑیں جاگ اٹھتی ہیں۔
مزید برآں، دوسرے مصرعے میں وہ علاج کی طرف اشارہ کرتے ہیں: “سونف، جوائن، ہریڑاں” – یعنی بڑھاپے میں انسان اسی قدر سہارے لے کر رہ جاتا ہے، طبی حکیموں کی دوائیں، مسالے اور جڑی بوٹیاں، جو بیماریاں تو پوری نہیں مٹاتیں، مگر انسان انہی کے سہارے زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔
تیسرے اور چوتھے مصرعے میں وہ انتہائی سادہ مگر گہرے فلسفے کی طرف لے جاتے ہیں:
“کوئی آکھے پیڑ لکے دی، کوئی آکھے چک” – ہر کوئی اپنے درد کو اپنے لہجے میں پہچانتا ہے، اپنے انداز میں بتاتا ہے، مگر حقیقت ایک ہے کہ آہستہ آہستہ سب کچھ ختم ہو رہا ہے۔
“وچوں گئی اے مک” – انسان کے اندر سے جوہر، جوانی کی طاقت، لچک اور وسائل ختم ہو جاتے ہیں۔ پھر نہ پیڑوں کا نام رہتا ہے، نہ ان کی حد بندی۔
میاں محمد بخشؒ کا یہ پیغام نہایت اہم ہے کہ بندہ جب تک جوانی کی منزلیں طے کر رہا ہوتا ہے، اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کے اپنے کیے ہوئے اعمال، اس کی حد سے زیادہ محنت، اس کی بے فکری، یہاں تک کہ اس کی کچھ خواہشیں بھی بیج بن کر اس کے وجود میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ وہ بیج بڑھاپے میں جاگتے ہیں – بطور درد، بطور بیماری، بطور پچھتاوے کے۔
شعری اوصاف:
میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ انسانی نفسیات، تصوف اور زمینی حقیقتوں کا نچوڑ ہے۔ آپ کے یہ اشعار پنجابی صوفیانہ شاعری کے اس رنگ کو پیش کرتے ہیں جہاں فلسفہِ حیات کو نہایت سادہ لیکن پر اثر مثالوں سے سمجھایا گیا ہے۔

ان اشعار کا شعری و فکری تجزیہ درج ذیل ہے:

۱۔ شعری اوصاف اور مشاہدہ

  • سادگی و بیانی: میاں صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ مشکل ترین بات کو دیہاتی زندگی کے روزمرہ استعاروں (جیسے سونف، جوائن) میں بیان کر دیتے ہیں۔
  • علامتی انداز: یہاں “بڑھاپا” صرف ایک جسمانی حالت نہیں بلکہ “زوال” کی علامت ہے۔
  • عوامی زبان: ان اشعار میں خالص عوامی زبان استعمال کی گئی ہے، جو براہِ راست دل پر اثر کرتی ہے۔

۲۔ تفصیلی تجزیہ

پہلا شعر: جسمانی زوال اور بے بسی

گئی جوانی آیا بڑھاپا، جاگ پیاں سب پیڑاں ہن کس کم محمد بخشا، سونف، جوائن، ہریڑاں

  • تشریح: شاعر فرماتے ہیں کہ جب جوانی کی توانائی رخصت ہوتی ہے اور بڑھاپا دستک دیتا ہے، تو وہ تمام دکھ اور تکلیفیں (پیڑاں) جو جوانی کی حرارت میں دبی ہوئی تھیں، اچانک جاگ اٹھتی ہیں۔
  • فلسفہ: یہاں “سونف، جوائن اور ہریڑ” (دیسی ادویات) کا ذکر کر کے میاں صاحب یہ نکتہ سمجھا رہے ہیں کہ جب “وقت” ہاتھ سے نکل جائے اور جڑ کمزور ہو جائے، تو بیرونی علاج معالجے اور تدبیریں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ یہ شعر انسان کو اس کی بے بسی کا احساس دلاتا ہے۔

دوسرا شعر: اصل حقیقت کی نشاندہی

کوئی آکھے پِیڑ لکے دی، کوئی آکھے چُک وچلی گل اے محمد بخشا وچوں گئی اے مُک

  • تشریح: جب انسان بوڑھا یا بیمار ہوتا ہے تو لوگ اس کی ظاہری علامات کی تشریح کرتے ہیں۔ کوئی اسے کمر کا درد (لکے دی پیڑ) کہتا ہے اور کوئی اسے مہروں کی تکلیف یا پٹھوں کا کھنچاؤ (چُک) قرار دیتا ہے۔
  • شاہکار نکتہ: میاں صاحب ان تمام ظاہری باتوں کو رد کرتے ہوئے “وچلی گل” (اصل بات) بیان کرتے ہیں کہ اصل میں کوئی بیماری نہیں، بلکہ اندر کی طاقت (حیاتی/روحانی توانائی) ختم ہو چکی ہے۔
  • استعارہ: “وچوں گئی اے مُک” کا جملہ ایک گہرا صوفیانہ معنی رکھتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب چراغ میں تیل ہی ختم ہو جائے تو بتی بدلنے یا اسے ہوا سے بچانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

میاں محمد بخش کا یہ مصرع لسانی ساخت اور معنوی گہرائی کے اعتبار سے ایک شاہکار ہے:

وچلی گل اے محمد بخشا وچوں گئی اے مُک

ایک ہی مصرعے میں ایک ہی مادے (Root Word) سے نکلے ہوئے دو الفاظ “وچلی” اور “وچوں” کا استعمال شعری محاسن کے اعتبار سے درج ذیل پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے:

۱. صنعتِ اشتقاق (Derivation)

علمِ بدیع کی اصطلاح میں اسے صنعتِ اشتقاق کہتے ہیں۔ جب ایک ہی مصرعے میں ایسے دو یا دو سے زیادہ الفاظ لائے جائیں جو ایک ہی مادے سے مشتق ہوں، تو اس سے کلام میں ایک خاص صوتی آہنگ اور علمی وقار پیدا ہوتا ہے۔ یہاں “وچ” (اندر/درمیان) سے ہی “وچلی” (اندرونی/حقیقی) اور “وچوں” (اندر سے) نکالے گئے ہیں۔

۲. تاکید اور حصر (Emphasis)

جب شاعر ایک ہی لفظ کو مختلف صورتوں میں دہراتا ہے، تو اس کا مقصد قاری کی توجہ اس خاص نقطے پر مرکوز کرنا ہوتا ہے۔ میاں صاحب یہاں یہ باور کروا رہے ہیں کہ:

  • مسئلہ باہر کا نہیں ہے۔
  • بات اندر (وچلی) کی ہے۔
  • اور کمی بھی اندر (وچوں) ہی سے واقع ہوئی ہے۔ یہ تکرار اس حقیقت کو “حتمی” بنا دیتی ہے کہ اب کسی بیرونی علاج کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

۳. معنوی تفاوت (Semantic Nuance)

اگرچہ دونوں الفاظ کا منبع ایک ہے، لیکن دونوں کے معنی میں ایک لطیف فرق ہے جو مصرعے کے حسن کو دوبالا کرتا ہے:

  • وچلی گل: یہاں یہ لفظ “حقیقت” یا “راز” کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ بات جو عام آنکھ کو نظر نہیں آ رہی (The underlying truth)۔
  • وچوں گئی اے مُک: یہاں یہ “مقام” یا “جوہر” کے معنی میں ہے۔ یعنی انسان کا اندرونی وجود، روح یا حیاتیاتی قوت (The core energy)۔ ایک لفظ مادی حالت کو بیان کر رہا ہے اور دوسرا اس کے پیچھے چھپے فلسفے کو۔

۴. صوتی نغمگی (Alliteration & Rhythm)

پنجابی شاعری میں “و” اور “چ” کی آوازوں کا یہ سنگم ایک خاص قسم کی موسیقی پیدا کرتا ہے۔ “وچلی” اور “وچوں” کی تکرار سے مصرعے میں ایک ایسی روانی پیدا ہوتی ہے کہ پڑھنے والا بے اختیار اس کی ضرب (Impact) محسوس کرتا ہے۔ یہ صوتی تکرار کلام کو سہلِ ممتنع (آسان مگر ناقابلِ تقلید) بنا دیتی ہے۔

۵. فکری وحدت

یہ اسلوب اس بات کی علامت ہے کہ میاں صاحب کے نزدیک کائنات اور انسان کا اصل مرکز اس کا باطن ہے۔ ایک ہی لفظ کے دو رخ استعمال کر کے انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جب تک “اندر” سلامت ہے، “باہر” کی ٹوٹ پھوٹ کا علاج ممکن ہے، لیکن جب “اندر” ہی خالی ہو جائے تو باہر کی تمام تراش خراش بے سود ہے۔

ایک ہی لفظ سے دو صورتیں تراشنا میاں صاحب کی قادر الکلامی کی دلیل ہے۔ یہ محض ہم قافیہ الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا لسانی جادو ہے جو سننے والے کو لفظ کے “اندر” جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے

زندگی کی بے ثباتی: میاں صاحب کی نظر میں

میاں محمد بخشؒ نے اپنی شاعری میں دنیا کی بے ثباتی اور فانی ہونے کو بار بار موضوع بنایا۔ وہ فرماتے ہیں:

“دنیا نال نہ گئی کسی دے، تر تر گئے اکیلے
اوہ بھلے جناں چھڈ رکھی، اس دھوڑوں ہتھ پلے”

یعنی دنیاوی مال و متاع کسی کے ساتھ نہیں گیا، سب اکیلا چھوڑ کر گیا۔ وہی بہتر ہیں جنہوں نے اس مٹی (دنیا) سے اپنے ہاتھ اور کپڑے پاک کر لیے۔

ایک اور مقام پر وہ اس دنیا کو ایک بے وفا دلہن سے تشبیہ دیتے ہیں:

“ایہہ دلہن کسے دی وفا نہیں کرتی،
لاکھاں خاوند کھا چکی، ایہہ بچے کھان والی”

یہ اشعار ہمیں بتاتے ہیں کہ اس عارضی دنیا سے محبت عقل مندی نہیں۔ وہ ہر آنے والے کو چھوڑ کر جاتی ہے۔

جسم کی فنا اور موت کی حقیقت کو انہوں نے ان الفاظ میں بیان کیا:

“اک اک کر کے سیالے وال سٹ گئے مینوں،
پگے وال پیغام لیائے کہ جمع کرنی پؤے گھر باری”

ادھر ادھر ہونے والے بال انسان کو آہستہ آہستہ خبردار کرتے ہیں کہ کوچ کا وقت قریب ہے۔ وہ آگے فرماتے ہیں:

“جسم جو توں مٹی توں ایہناں وکھرا رکھنا چاویں،
آخر مٹی وچ رلنا ہے، فخر نہ کر توں اپنی رونق تے”

اس طرح وہ انسان کو غرور سے بچاتے ہوئے اس کی حقیقت یاد دلاتے ہیں کہ اُسے مٹی میں مل جانا ہے۔

آخر میں، میاں صاحب عشق حقیقی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ وہ ایک خوبصورت مثال دیتے ہیں:

“قطرہ ونجھ پیا دریا وے، تاں اوہ کوئی نہ کہاوے
جس تے اپنا آپ گنوائے، آپ اوہی بن جاوی”

جب قطرہ دریا میں گرتا ہے تو اس کی کوئی الگ شناخت نہیں رہتی۔ وہ دریا بن جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان جب اپنی الگ وجودیت مٹا کر خالقِ حقیقی میں فنا ہو جاتا ہے، تو وی اصل منزل پا لیتا ہے۔

یہ اشعار ہمیں صرف بڑھاپے کی تکالیف سے روشناس نہیں کراتے، بلکہ یہ بھی سکھاتے ہیں کہ جوانی کے ایام قیمتی ہیں، انہیں اس طرح گزارو کہ بڑھاپے میں وہی اعمال تمہارے لیے جاگتے ہوئے درد نہ بن جائیں، بلکہ سکون کا سبب بنیں۔
ان اشعار میں میاں محمد بخش نے پیرانہ سالی (بڑھاپے) کے پردے میں انسان کو اس کی فانی حقیقت یاد دلائی ہے۔

میاں محمد بخشؒ کا پیغام نہایت واضح ہے: دنیا فانی ہے، اس کے دکھ درد عارضی ہیں، اور اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اپنی انا کو مٹا کر ابدی حقیقت سے جا ملے۔

مضمون نگار ڈاکٹر ظفر اقبال ہیلتھ کیئر مینجمنٹ، کوالٹی اور مریض کی حفاظت کے شعبے میں تربیت اور عملی خدمات سے وابستہ ہیں۔ وہ اقدار کی بنیاد پر میڈیکل پریکٹس کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ صحت عامہ کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ، بین الاقوامی تعلقات، ماحولیات، اقبالیات، سیاسی، ادبی اور قومی امور بھی ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔