ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوگا، امریکہ چین کا اتفاق
بیجنگ نے تائیوان کے معاملے پر امریکہ کو وارننگ بھی جاری کردی
بیجنگ کے دورے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تصویر
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں۔
یہ اتفاق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران ہوا، جس میں تجارت، تائیوان، توانائی کی سلامتی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ایران کے جوہری پروگرام اور عالمی استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، جسے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اس معاملے پر غیر معمولی ہم آہنگی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو خلیج میں اپنے رویے سے پیچھے ہٹنے پر قائل کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کا حل بیجنگ کے اقتصادی اور تزویراتی مفادات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
مارکو روبیو نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی ایشیا میں تجارت اور توانائی کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے
چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باہمی تعلقات کو “تعمیری، اسٹریٹجک اور مستحکم” قرار دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ نیا فریم ورک اگلے تین برسوں اور اس کے بعد بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کی رہنمائی فراہم کرے گا۔ بیجنگ نے امریکی کاروباری حضرات کیلئے چین کے دروازے کھلے رکھنے کا بیان دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک غیرمعمولی سرکاری طور پر بیجنگ میں ہیں، جہاں ان کی چینی صدر سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت، معیشت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ “چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا اصل جوہر باہمی فائدہ اور جیت-جیت کی تعاون ہے”۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ مل کر “مشکل سے حاصل ہونے والے مثبت مومنٹم” کو برقرار رکھیں۔
صدر شی نے واضح کیا کہ “چین کی امریکی کاروباری اداروں کے لیے دروازے مزید کھلیں گے”۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں صدور نے فوجی سطح پر بہتر مواصلات اور تجارت، صحت، زراعت، سیاحت، ثقافت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
تائیوان پر سخت وارننگ
صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے معاملے کو چین-امریکہ تعلقات کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: “اگر اسے اچھی طرح نمٹایا گیا تو باہمی تعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہ سکتے ہیں، لیکن اگر برا طریقے سے نمٹایا گیا تو دونوں ممالک میں ٹکراؤ ہو سکتا ہے اور پورا چین-امریکہ تعلق انتہائی خطرناک صورتحال میں جا سکتا ہے۔”
دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور کوریائی جزیرہ نما کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی راہ پر ڈالنے کی جانب اہم قدم ہے، جبکہ تائیوان پر شی کی وارننگ بیجنگ کی روایتی پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقتصادی تعاون پر زور اور تائیوان جیسے حساس مسائل پر واضح موقف دونوں ممالک کے درمیان آئندہ برسوں کے تعلقات کی شکل متعین کرے گا۔
کاروباری تعلقات ترجیح
شی جن پنگ نے امریکی کاروباری قیادت کے ایک بڑے وفد سے بھی ملاقات کی جس میں ایپل، انویدیا، مائیکرون، کوالکام، بلیک راک، بوئنگ، سٹیز گروپ اور گولڈمین سیکس کے سربراہان شامل تھے۔ ٹرمپ نے وفد کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ تمام امریکی کاروباری برادری کے ممتاز نمائندے ہیں جو چین کا احترام کرتے ہیں۔شی جن پنگ نے کہا کہ امریکی کمپنیاں چین کی اصلاحات اور کھلے پن میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں اور انہیں چین میں مزید وسیع مواقع میسر آئیں گے۔