غیر قانونی تقرریوں کے الزام پرانورسیف اللہ کو26برس پہلے سنائی گئی سزا کالعدم قرار
عدالت عظمیٰ نے 20 جنوری 2016 کا اکثریتی فیصلہ بھی منسوخ کردیا
تصویر: سوشل میڈیا
سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 2000 میں دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست منظور کر لی۔
عدالت نے قرار دیاہے کہ کسی بھی شخص کو ماضی کے قانون کے تحت زیادہ سزا نہیں دی جاسکتی۔عدالت عظمیٰ نے 20 جنوری 2016 کا اکثریتی فیصلہ بھی منسوخ کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 13 جون 2002 کا بریت کا فیصلہ بحال کردیا۔
جسٹس صلاح الدین پنہور کے تحریر کردہ فیصلے قومی احتساب بیورو کے 1999 کے نیب آرڈیننس کا 1996 کے الزامات پر اطلاق آئینی طور پر غلط قرار دیا گیا ہے، کیونکہ آئین کا آرٹیکل 12 ماضی کے اثر سے سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 میں مقرر کردہ سزائیں سابقہ قوانین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں، اس لیے ان کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ انور سیف اللہ خان نے بطور وزیر پٹرولیم تمام تقرریاں اوپن ریکارڈ اور محکمانہ روایات کے مطابق کیں، ان پر غیر قانونی تقرریوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ انور سیف اللہ خان کے خلاف رشوت، ذاتی فائدے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔