گھوٹکی: والدین کے سامنے نوجوان لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی ، مقدمہ درج
کھیتوں میں گھاس کاٹنے گئی تھی اس دوران شراب کے نشے میں دھت 4 مسلح افراد وہاں پہنچ گئے ،متاثرہ لڑکی کی پریس کانفرنس
فائل فوٹو
گھوٹکی: سندھ کے ضلع گھوٹکی کے گاؤں وزیر چاچڑ میں بااثر مسلح افراد نے والدین کے سامنے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، پولیس نے 5ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
متاثرہ لڑکی نے والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاؤں وزیر چاچڑ میں 3 مئی کو 4 ملزمان نے مجھ سے اجتماعی زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی۔
متاثرہ لڑکی کے مطابق وہ معمول کے مطابق اپنے کھیتوں میں گھاس کاٹنے گئی تھی اس دوران شراب کے نشے میں دھت 4 مسلح افراد وہاں پہنچ گئے۔ ملزمان نے لڑکی کے والدین کی موجودگی میں اسے زبردستی دبوچ لیا اور بے رحمانہ طریقے سے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
گھوٹکی گاؤں وزیر چاچڑ | میں اپنے کھیتوں میں گھاس کاٹنے کے لیے گئی مجھے چار لوگوں نے شراب کے نشے میں والدین کے سامنے پکڑ کر زبردستی جسمانی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا مجھے دھمکیاں دی گئی تمہارے خاندان کو بھی ختم کردیں گے
بچی حوراں کی سکر میں پریس کانفرنس 💔 pic.twitter.com/733lpy2jK2
— Azad | آزاد (@AzadAli7786) May 18, 2026
رپورٹ کے مطابق ملزمان نے صرف جسمانی تشدد پر ہی بس نہیں کیا بلکہ جاتے ہوئے متاثرہ خاندان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ ملزمان کا کہنا تھا کہ ہم تمہارے پورے خاندان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔
متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی سکھر سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے اور خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ضلع گھوٹکی میں خاتون سے مبینہ اجتماعی ریپ کرنے کا مقدمہ 5 ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے اس کیس میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گیی ہے۔
یہ ایف آئی آر متاثرہ خاتون کے والد کی مدعیت میں تھانہ عادلپور میں درج کی گئی ہے جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تین مئی کو اُن کی اہلیہ اور بیٹی شام کے اوقات میں اکٹھے گھاس کاٹنے گئی تھیں۔
ایف آئی آر میں والد کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ کچھ ہی دیر بعد والدہ کو اپنی بیٹی کے چیخنے کی آوازیں قریب واقع مقامی وڈیرے کے ڈیرے سے آئیں اور وہاں پہنچنے پر پتا چلا کہ ملزم وڈیرہ مشتاق اپنے پانچ دیگر ساتھیوں سمیت وہاں موجود ہے جبکہ وہاں موجود ایک شخص نے کلاشنکوف اٹھا رکھی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق والد نے الزام عائد کیا ہے کہ اِس موقع پر اُن کی بیٹی کو بے لباس کیا گیا اور باری باری وہاں موجود افراد نے اس کا ریپ کیا۔
یہ مقدمہ 19 مئی کو مقامی تھانے میں دائر کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ تین مئی کو پیش آیا تھا۔ مدعی نے مقدمے کے اندراج میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ علاقہ معززین سے مشورہ کرنے کے بعد مقدمہ درج کروانے آئے ہیں۔