مکہ دفاعی معاہدے کے بعدسابق اسرائیلی وزیراعظم کا6ماہ پرانابیان کیوں وائر ل ہورہاہے؟
نفتالی بینٹ نے فروری 2026 میں ایک کانفرنس کےدوران خطاب کیا تھا
تصویر: سوشل میڈیا
سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا 6 ماہ پرانا بیان وائرل ہونے لگا ۔ انہوں نے،فروری 2026 میں یروشلم میں ایک اہم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کو اسرائیل کے لیے نیا بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔
بینیٹ کا کہناتھاکہ ترکیہ سعودی عرب کو ہمارے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان سے مل کر ایک سنی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاتھاکہ ترکیہ نیا ایران ہے،ر رجب طیب اردوان ایک ہوشیار اور خطرناک حریف ہیں جو اسرائیل کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بینیٹ کے مطابق ترکیہ اور قطراخوان المسلمین کو تقویت دے رہے ہیں جو مستقبل میں ایران جتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
"Turkiye is trying to flip Saudi Arabia against us and establish a hostile 'Sunni Axis' with nuclear Pakistan."
-Ex Israeli PM Naftali Bennett (Feb 2026)
The israelis had pre-empted this defense pact. https://t.co/nYZf3Aiat7 pic.twitter.com/QdKwqz6Yi2
— M Ibrahim Jaffri (@sheeo91) August 6, 2026
بینیٹ نے یہ بات اس وقت کی جب خطے میں تناؤ بڑھ رہا تھا اور ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کی باتیں ہو رہی تھیں۔ انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا تھاکہ صرف ایران پر توجہ مرکوز نہ رکھی جائے بلکہ ترکیہ کی طرف سے ابھرتے ہوئے نئے “سنی محور” کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے۔ اس بیان میں پاکستان کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ وہ مسلم دنیا کا واحد جوہری طاقت والا ملک ہے۔
اب جب سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے تو بہت سے لوگ بینیٹ کے اس بیان کا حوالہ دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر کہاجارہاہے کہ اسرائیلیوں نے اس دفاعی معاہدے کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا۔
یہ بیان اسرائیل کے اندر سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث رہا اور کچھ حلقوں نے اسے ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف انتباہ قرار دیا۔