شہری کو نائیجیریا جانے سے روکنے کا ایف آئی اے کا اقدام کالعدم قرار
مبہم خدشات پر مسافروں کو آف لوڈ نہیں کیا جا سکتا۔لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے حوالے سے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے لیے اہم گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں اور قرار دیا ہے کہ صرف غیر واضح خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر کسی شہری کو بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔
عدالت نے ایک شہری کو نائیجیریا جانے سے روکنے کا ایف آئی اے کا اقدام غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے پاس تمام سفری دستاویزات، امیگریشن کلیئرنس اور بورڈنگ پاس موجود ہونے کے باوجود اسے اچانک آف لوڈ کیا گیا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے اس بنیاد پر روکا گیا کہ وہ ممکنہ طور پر دبئی سے واپس نہیں آئے گا، حالانکہ نہ وہ کسی مقدمے میں نامزد تھا، نہ کسی انکوائری یا ای سی ایل میں شامل تھا۔ اس اقدام کے باعث اسے مالی نقصان، ذہنی اذیت اور ساکھ کو نقصان پہنچا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بیرون ملک سفر کرنا آئین کے تحت بنیادی حق ہے اور ایف آئی اے کو حاصل اختیارات لامحدود نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی مسافر کو روکنے کی وجوہات واضح اور ریکارڈ پر لانا قانونی تقاضا ہے، محض رسمی کارروائی کافی نہیں۔
عدالت کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے اپنے بھائی کے پاس نائیجیریا جانے کی وضاحت غیر معقول نہیں تھی، جبکہ ایف آئی اے اس وضاحت کو مسترد کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ ریکارڈ نہیں کر سکی۔ متاثرہ شہری اگر چاہے تو ہرجانے کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔
جسٹس راحیل کامران نے شہری محمد عباس کی درخواست پر نو صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ایف آئی اے کے لیے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے حوالے سے واضح ہدایات بھی جاری کیں۔
فیصلے کے مطابق آف لوڈنگ کے وقت افسران کو تفصیلی اور بامعنی وجوہات تحریر کرنا ہوں گی اور مسافر سے کیے گئے سوالات اور اس کے جوابات کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔
جہاں ممکن ہو، انٹرویو یا گفتگو کو الیکٹرانک طور پر محفوظ کیا جائے گا اور آف لوڈنگ آرڈر یا پروفارما کی کاپی متاثرہ مسافر کو فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ صرف خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر کسی شہری کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایف آئی اے کو اپنے اختیارات شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق استعمال کرنا ہوں گے۔