افغان طالبان نے روس سے دفاعی نظام لینے کا معاہدہ کر لیا، بی بی سی پشتو کا دعوی

معاہدے میں افغانستان کی فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے جدید سسٹم کی فراہمی ، طالبان فورسز کے لیے جدید ترین زمینی ہتھیار اور عسکری گاڑیوں کی فراہمی شامل

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ماسکو: افغانستان کی طالبان حکومت اور روس کے درمیان دفاعی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد روس کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ کابل کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے۔

ایک معتبر ذریعے نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ یہ معاملہ پہلے ہی ماسکو کے ساتھ زیرِ بحث تھا، تاہم افغان وزیر دفاع کے حالیہ دورہ روس کے دوران کریملن کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں پر عملی پیش رفت ہوئی اور فریقین کے درمیان حتمی معاہدہ طے پا گیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ اہم ترین دفاعی معاہدہ روس کے دار الحکومت ماسکو میں روسی قومی سلامتی کے مشیر سرگئی شوئیگو اور طالبان کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد کی موجودگی میں ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت روس طالبان حکومت کو درج ذیل تعاون فراہم کرے گا:

 افغانستان کی فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے جدید سسٹم کی فراہمی۔

 طالبان فورسز کے لیے جدید ترین زمینی ہتھیار اور عسکری گاڑیوں کی فراہمی۔

 روسی ماہرین کی جانب سے طالبان حکومت کی افواج کو جدید جنگی خطوط پر تربیت دی جائے گی۔

تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ اس معاہدے میں صرف دفاعی نظام شامل ہے یا اس میں ڈرونز جیسے حملہ کرنے والے ہتھیار بھی شامل کیے گئے ہیں۔

افغانستان سے امریکی عسکری انخلا اور 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ماسکو اور کابل کے تعلقات میں مسلسل گرمجوشی دیکھی گئی ہے۔ روس ان چند گنتی کے ممالک میں شامل ہے جس نے کابل میں اپنا سفارت خانہ کبھی بند نہیں کیا۔

اس سے قبل 2022 میں بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا اقتصادی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت روس افغانستان کو سستا تیل، گیس اور گندم فراہم کر رہا ہے۔ موجودہ دفاعی معاہدہ ان بڑھتے ہوئے تعلقات کی نئی اور اہم ترین کڑی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی گزشتہ سال کے آخر میں واشنگٹن اور دیگر عالمی طاقتوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کی بدلتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ روابط رکھنا ناگزیر ہے، اور کوئی بھی ملک موجودہ قیادت کو بائی پاس کر کے افغانستان پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

روس اور وسطی ایشیائی ممالک کی جانب سے افغان سر زمین پر موجود شدت پسند گروہوں کے حوالے سے بارہا تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے افغان وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے ماسکو کو یقین دہانی کرائی کہ طالبان حکومت کسی بھی گروہ کو افغانستان کی سر زمین دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور ان کی حکومت ان عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان یقین دہانیوں کے باوجود خطے کے ممالک کے سیکیورٹی خدشات اب بھی مکمل طور پر دور نہیں ہو سکے ہیں، اور روس کی جانب سے طالبان کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی کے فیصلے کو خطے کی جیو پولیٹکس میں ایک بڑا ‘گیم چینجر’ دیکھا جا رہا ہے۔