بیمار ماں کی آخری خواہش پوری کرنے کے لیے اسپتال کے وارڈ میں بیٹے کا نکاح

نکاح کے چند گھنٹے بعد کینسر سے نبردآزما ماں انتقال کر گئیں، واقعہ نے ہر آنکھ اشکبار کر دی

May 30, 2026 · قومی

مظفرآباد ( صباح نیوز)
عیدالاضحیٰ کے موقع پر دارالحکومت مظفرآباد میں ماں اور بیٹے کی محبت، عقیدت، وفاداری اور فرمانبرداری کی ایک ایسی داستان رقم ہوئی جس نے ہر آنکھ کو نم کر دیا۔ ایک نوجوان وکیل کا نکاح عباس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کے پلمونولوجی وارڈ میں اس کی شدید بیمار والدہ کی آخری خواہش پوری کرنے کے لیے انجام دیا گیا، جبکہ نکاح کے چند گھنٹے بعد ہی والدہ انتقال کر گئیں۔
60 سالہ روبینہ بی بی، جو ایڈووکیٹ سردار فیض مصدق کی والدہ تھیں، گزشتہ تین برس سے کینسر کے موذی مرض کا بہادری سے مقابلہ کر رہی تھیں۔ ان کی طبیعت بگڑنے پر انہیں ایمز مظفرآباد منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے بیٹے کا نکاح دیکھ کر بہو کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہیں۔
اہل خانہ کے مطابق روبینہ بی بی نے اپنے کزن سردار عدنان کو ہدایت کی تھی کہ ان کے بیٹے کی شادی اس کی خالہ کی بیٹی سے جلد از جلد کر دی جائے۔ جب ڈاکٹروں نے ان کی حالت انتہائی تشویشناک قرار دے دی تو خاندان نے ان کی خواہش کو فوری طور پر پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔
دلہن کے اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا اور ان کی رضامندی کے بعد عیدالاضحیٰ کے پہلے دن شام کے وقت اسپتال کے وارڈ میں نکاح کی تقریب منعقد ہوئی۔ دولہا کے لیے سفید سوٹ اور روایتی پگڑی کا انتظام کیا گیا جبکہ دلہن اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ہمراہ اسپتال پہنچی۔ وارڈ میں قریبی رشتہ داروں کے علاوہ دیگر مریض، ان کے تیماردار، ایک خاتون ڈاکٹر اور طبی عملے کے افراد بھی موجود تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ منظر انتہائی جذباتی تھا۔ وارڈ میں موجود بیشتر افراد اپنے آنسو نہ روک سکے۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر جویریہ نے بھی تقریب کے انعقاد میں بھرپور تعاون کیا۔ تقریب کے دوران ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ دولہا اپنی بے ہوش والدہ کا ہاتھ تھامے بیٹھا ہے جبکہ عالم دین نکاح کی شرعی رسومات ادا کر رہے ہیں۔
دولہا کے کزن شیراز خالق نے بتایا کہ نکاح کے بعد روبینہ بی بی کے چہرے پر کئی دنوں بعد سکون اور اطمینان کے آثار نمایاں تھے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آخری خواہش پوری ہونے کے بعد مطمئن دکھائی دے رہی تھیں۔
جمعہ کی صبح تقریباً چار بجے روبینہ بی بی انتقال کر گئیں۔ ان کی نماز جنازہ گوجرہ مظفرآباد میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
اس موقع پر مرحومہ کے فرزند سردار فیض مصدق ایڈووکیٹ نے تعزیت کرنے والوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے جوانی میں بیوہ ہونے کے بعد شدید مشکلات کے باوجود ان کی پرورش، تعلیم اور تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے ماں کے ساتھ باپ کا کردار بھی ادا کیا اور اپنی پوری زندگی ان کے مستقبل کے لیے وقف کر دی۔
سوگواران کا کہنا تھا کہ اسپتال میں ہونے والی یہ منفرد تقریب محض ایک نکاح نہیں بلکہ ایک ماں کی اپنے بیٹے کے لیے آخری دعا اور ایک بیٹے کی اپنی ماں سے محبت، احترام اور فرمانبرداری کی لازوال مثال تھی۔